Tag Archives: supreme court of pakistan

ہم پر لازم نہیں جے آئی ٹی کی فائنڈنگ کو تسلیم کر لیں: جسٹس اعجازالاحسن

اسلام آباد سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت، جے آئی ٹی رپورٹ پر پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ کے وکلاء نے دلائل مکمل کر لئے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہم پر لازم نہیں کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگ کو تسلیم کر لیں، کسی بھی فریق کے خلاف فائنڈنگ کس طرح تسلیم کریں، بینج نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے ہل میٹل کے حوالے سے جن دستاویزات پر انحصار کیا، وہ تصدیق شدہ نہیں، ضرورت محسوس ہونے پر والیم ٹین بھی کھول دیں گے۔

قبل ازیں شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا میں بتاؤں گا کہ جے آئی ٹی کا کام کیا تھا، جے آئی ٹی رپورٹ نا قابل قبول دستاویزات پر مبنی ہیں، رپورٹ میں قانون کی مکمل خلاف ورزی ہوئی، جے آئی ٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، رپورٹ کو ثبوت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا، جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کرنے کی درخواست دائر کی ہے، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود کو قانونی پہلوؤں تک محدود رکھیں، آپ اپنے دلائل کو ایشوز تک محدود رکھیں۔

جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنے دلائل میں کہا وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں قوم سے غلط بیانی کی، نا اہل قرار دیا جائے۔

عوامی مسلم لیگ کی جانب سے شیخ رشید نے خود دلائل دیتے ہوئے کہا 5 ججز نے قوم کی جو خدمت کی ہے، اللہ اس کا صلہ ضرور دے گا، لوگوں نے کہا جے آئی ٹی کی رپورٹ جنوں کی ہے، ایسی جے آئی ٹی تشکیل دینے پر سلیوٹ کرتا ہوں، میری گزارشات سویٹ، شارٹ اور سمارٹ ہوں گی، شیخ رشید نے کہا ہر کیس کے پیچھے ایک چہرہ ہوتا ہے، جے آئی ٹی رپورٹ میں بے نامیوں کا جمعہ بازار ثابت ہو چکا، شریف فیملی عام قسم کی مخلوق نہیں ہے، ایک بچے کو سعودی عرب، دوسرے کو لندن رکھا گیا، جے آئی ٹی ارکان نے بہت اچھا کام کیا، انصاف کی جیت ہوگی۔

شیخ رشید نے دلائل دیتے ہوئے کہا وزیراعظم کے بچے مستری مجید یا کسی ڈینٹر کے بچے نہیں، جے آئی ٹی کو گالیاں نکالی گئیں، جے آئی ٹی نے گلف سٹیل کا حشر نشر کر دیا، حسن اور مریم نواز اپنے والد کے بے نامی دار ہیں، کسی ملک کا وزیراعظم دوسرا عہدہ نہیں رکھتا، جس عمر میں شناختی کارڈ نہیں بنتا، وزیراعظم کے بچے کروڑوں کے مالک تھے، نوازشریف کے اقامے سے قوم کی ناک کٹ گئی، ہمارا وزیراعظم دوسرے ملک میں نوکری کرتا ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کا معاملہ عدالت اور جے آئی ٹی کے درمیان ہے، رپورٹ پر اپنی معروضات پیش کروں گا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا، جے آئی ٹی رپورٹ آنے پر اب فیصلہ عدالت نے کرنا ہے،انہوں نے کہا رپورٹ میں طارق شفیع کے بیان حلفی کو جعلی قرار دیا گیا، گلف سٹیل کے شیئرز فروخت کرنے کے معاہدے کو خود ساختہ قرار دیا گیا، حسین نواز اور طارق شفیع کے گلف سٹیل سے متعلق بیانات میں تضاد ہے، رپورٹ میں قطری خاندان کو 12 ملین درہم دینے کو افسانہ قرار دیا۔

نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا مریم نواز نے تسلیم کیا کہ انھوں نے بیئرر سرٹیفکیٹ نہیں دیکھے، جےآئی ٹی کے مطابق مخصوص فونٹ مارکیٹ میں موجود نہیں تھا، ٹرسٹی کیلئے لازم تھا کہ مریم نواز کے پاس آف شور کمپنی کے سرٹیفکیٹ ہوتے، نواز شریف نے بیان میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا، شریف خاندان 1993 سے 96 کے درمیان لندن فلیٹ میں رہ رہا تھا، شریف فیملی کے اثاثوں کی تقسیم میں لندن فلیٹس کا ذکر نہیں۔

پی ٹی آئی وکیل نے کہا شہباز شریف بھی جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کا بیان ایسا ہے جیسے پولیس افسروں کے سامنے ریکارڈ کیا گیا ہو، شہبا زشریف کے بیان کا دائرہ کار کیا ہوگا، اس کا جائزہ ضابطہ فوجداری کے تحت لیا جاسکتا ہے۔

نعیم بخاری دلائل دہتے ہوئے مزید کہا التوفیق کمپنی کے فیصلے میں الثانی خاندان کا ذکر نہیں،جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا عدالتی فیصلے میں قطری خاندان کا ذکر کیوں ہوتا، نعیم بخاری نے کہا عدالت فیصلہ کرے نا اہل کرنیوالے ججز کے ساتھ اتفاق کرنا ہے یا نہیں ؟، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا نا اہلی کا فیصلہ اقلیت کا تھا، جے آئی ٹی اکثریت نے بنائی۔

پی ٹی آئی وکیل نے کہا جے آئی ٹی کو سعودی عرب سے قانونی معاونت نہیں ملی، رپورٹ میں ذرائع کی معلومات کا بھی ذکر کیا، جسٹس اعجٓز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا ذرائع کی دستاویزات مصدقہ ہیں؟، نعیم بخاری نے کہا وہ دستاویزات تصدیق شدہ نہیں لیکن جے آئی ٹی نے درست قرار دیں۔

نعیم بخاری نے مزید کہا کہ وزیراعظم جدہ سٹیل ملز کی فروخت کی دستاویزات دینے میں نا کام رہے، جدہ فیکٹری 63 ملین کے بجائے 42 ملین ریال میں فروخت ہوئی، جے آئی ٹی نے قرار دیا حسین نواز جدہ مل کے اکلوتے مالک نہیں تھے، عباس شریف اور رابعہ شہباز بھی جدہ فیکٹری کے حصہ دار تھے۔ انہوں نے کہا دوستوں سے قرض لینا بھی ثابت نہیں ہوا، نواز شریف نے حسین نواز کو 7.5 لاکھ ریال سعودی اکاؤنٹ سے بھیجے، جے آئی ٹی کو ہل میٹل آڈٹ رپورٹ بھی نہیں دی گئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا جے آئی ٹی نے ہل میٹل کے حوالے سے دستاویزات استعمال کیں، جن دستاویزات پر انحصار کیا گیا وہ تصدیق شدہ نہیں ہیں۔

پی ٹی آئی وکیل نے کہا ایف زیڈ ای کمپنی کے دستاویزات قانونی معاونت سے ملے، کمپنی سے نوازشریف کا اقامہ بھی جاری کرایا گیا، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا نوازشریف کے اقامے کی مدت 2015 تک تھی، نعیم بخاری نے کہا حسن نواز کے مطابق کمپنی 2014 میں ختم کر دی گئی تھی، جےآئی ٹی نے نوازشریف کا کمپنی کے ساتھ ملازمت کا معاہدہ بھی لگایا ، جسٹس اعجاز افضل نے کہا نوازشریف کا اقامہ کہاں ہے؟، نعیم بخاری نے کہا نوازشریف کا اقامہ جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ ہے۔

نعیم بخاری نے مزید کہا کہ نوازشریف ایف زیڈ ای کمپنی کے چیئرمین بورڈ تھے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا ریکارڈ کے مطابق نوازشریف کو تنخواہ ملتی رہی، ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ تنخواہ ہر ماہ نہیں ملتی تھی، نعیم بخاری نے کہا نوازشریف کی تنخواہ 10 ہزار درہم تھی، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کیا جےآئی ٹی قانون کے مطابق دستاویزات پاکستان لے کر آئی؟، نعیم بخاری نے کہا کہ اس کا جواب جےآئی ٹی ہی دے سکتی ہے، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ضرورت پڑی تو والیوم 10 کو بھی پبلک کر دیں گے، ہر چیز صاف اور شفاف ہونی چاہیے۔

نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جےآئی ٹی کی فائنڈنگ اور سفارشات عدالت پرلازم نہیں ہیں، نواز خاندان نے جعلی دستاویزات جمع کرائیں، اس پر فوجداری کارروائی بنتی ہے، جسٹس عظمت سعید نے نعیم بخاری سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے نتائج کیا ہوں گے؟، نعیم بخاری نے کہا عدالت نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا کہہ سکتی ہے۔

وقفے کے بعد سپریم کورٹ میں سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو جسٹس اعجاز افضل نے پی ٹی آئی وکیل نعیم بخاری سے استفسار کرتے ہوئے کہا قطری خط بوگس ہے؟، اس حوالے سے بنائی گئی کہانی خود ساختہ ہے؟، جس پر نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا میرے خیال میں دونوں ہی بوگس ہیں، حسن نواز کی تمام کمپنیاں خسارے میں تھیں، حسن اور حسین نواز کے بیان میں تضاد ہے، حسن نواز کمپنیوں کے ذرائع آمدن نہیں بتا سکے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے نعیم بخاری سے استفسار کرتے ہوئے کہا مریم نواز سے متعلق دستاویز مصدقہ ہیں؟، نعیم بخاری نے کہا جے آئی ٹی نے دستاویز قانونی معاونت سے حاصل کیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا مریم نواز کے بینی فیشل ثابت ہونے پر نتائج ہوں گے۔ مریم کے زیر کفالت ثابت ہونے پر نواز شریف پر اثر پڑے گا، نعم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا مریم نواز کمپنیوں کی بینی فشل مالک ثابت ہوگئی ہیں، حسین نواز اور مریم کے درمیان ٹرسٹ ڈیڈ بوگس ہے، پی ٹٰی آئی وکیل نعیم بخاری سے استدعا کی عدالت نوازشریف کو طلب کرے، وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا جائے، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کیا عدالت جے آئی ٹی دستاویزات پر فیصلہ کر سکتی ہے؟، سوال یہ ہے حاصل دستاویزات کیلئے قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟۔

سپریم کورٹ کے ریمارکس ، کھلاڑیوں کو سانپ سونگھ گیا، سب دیکھتے ہی رہ گئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز سارا پاکستان جان چکا ہے لیکن ہم اس کے پابند نہیں۔ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کا خصوصی بینچ پاناما کیس کی سماعت کررہا ہے۔ سماعت سے قبل شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنے اعتراضات جمع کرادیئے۔ شریف خاندان نے اپنے اعتراضات میں موقف اختیار کیا ہے کہ جےا?ئی ٹی کوعدالت نے 13 سوالات کی تحقیقات کاحکم دیا تھا لیکن جے آئی ٹی نے مینڈیٹ سے تجاوز کیا، جے آئی ٹی جانبدار تھی اور اس نے قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔ اس لیے عدالت عظمیٰ سے استدعا ہے کہ ہماری درخواست منظور کرتے ہوئے رپورٹ کو مسترد کیا جائے۔عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے جے آئی ٹی رپورٹ کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناما کیس کے فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جب کہ جسٹس گلزار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے اتفاق کیا اور 3 ججز نے مزید تحقیقات کی ہدایت دی۔ جس کے بعد عمل درآمد بینچ اور جے آئی ٹی بنی، جے آئی ٹی ہر 15 روز بعد اپنی پیش رفت رپورٹ عمل درآمد بینچ کے سامنے جمع کراتی رہی۔ 10 جولائی کو جے آئی ٹی نے اپنے حتمی رپورٹ جمع کرائی۔ تحقیقات کا معاملہ عدالت اور جے آئی ٹی کے درمیان ہے، اب جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات سے قانونی معاونت بھی حاصل کی، گلف اسٹیل مل سے متعلق شریف خاندان اپنا موقف ثابت نہ کرسکا، گلف اسٹیل مل 33 ملین درہم میں فروخت نہیں ہوئی، جے آئی ٹی نے طارق شفیع کے بیان حلفی کوغلط اور 14 اپریل 1980 کے معاہدے کو خود ساختہ قرار دیا، اپنی تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی نے حسین نواز اور طارق شفیع کے بیانات میں تضاد بھی نوٹ کیا۔ جے آئی ٹی نے فہد بن جاسم کو 12 ملین درہم ادا کرنے کو افسانہ قرار دیا۔ قطری خط وزیراعظم کی تقاریر میں شامل نہیں تھا، جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو طلبی کے لیے چار خط لکھے، جے آئی ٹی نےکہا کہ قطری شہزادہ پاکستانی قانونی حدود ماننے کو تیار نہیں، اس کے علاوہ قطری شہزادے نے عدالتی دائرہ اختیار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔عمران خان کے وکیل نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے کہا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایجنسی نے موزیک فونسیکا کے ساتھ خط وکتابت کی۔ جے آئی ٹی نے اس خط و کتابت تصدیق کی۔ لندن فلیٹ شروع سے شریف خاندان کے پاس ہیں، تحقیقات کے دوران مریم نواز نے اصل سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیے، ٹرسٹی ہونے کے لیے ضروری تھا کہ مریم نواز کے پاس بیریئر سرٹیفکیٹ ہوتے۔ بیریئر سرٹیفکیٹ کی منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ موجود نہیں، فرانزک ماہرین نے ٹرسٹ ڈیڈ کے فونٹ پر بھی اعتراض کیا۔حدیبیہ پیپر کیس سے متعلق نعیم بخاری نے کہا کہ حدیبیہ کیس کے فیصلے میں قطری خاندان کا کہیں تذکرہ نہیں، جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اس میں قطری خاندان کا ذکر ہونا ضروری نہیں تھا، حدیبیہ پیپر ملز کی سیٹلمنٹ کی اصل دستاویزات سربمہر ہیں، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ شہباز شریف بطور گواہ جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، انہوں نے جے آئی ٹی میں ایسے بیان دیا جیسے پولیس افسر کے سامنے دیتے ہیں۔ ان کا بیان تضاد کے لیے استعمال ہوسکتا ہے، جے آئی ٹی کے سامنے دیئے گئے بیانات کو ضابطہ فوجداری کے تحت دیکھا جائے گا، قانونی پیرامیٹرز کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ جےآئی ٹی کے مطابق نوازشریف نےسعودی عرب میں واقع عزیزیہ اسٹیل ملز لگانے کے لیے کوئی سرمایہ موجود نہیں تھا، عزیزیہ اسٹیل مل کے حسین نواز اکیلے نہیں بلکہ میاں شریف اور رابعہ شہباز بھی حصہ دار تھے۔ اس کی فروخت کی دستاویزات پیش نہیں کیں لیکن جےآئی ٹی نے قرار دیا کہ عزیزیہ مل 63 نہیں 42 ملین ریال میں فروخت ہوئی۔نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے بتایا ہے کہ ایف زیڈ ای نامی کمپنی نوازشریف کی ہے۔ حسین نواز کے مطابق ایف زیڈ ای کمپنی 2014 میں ختم کردی گئی، نواز شریف ایف زیڈ ای کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین تھے۔ عدالت نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا ایف زیڈ ای کی دستاویزات جےآئی ٹی کو قانونی معاونت کے تحت ملیں یا ذرائع سے، جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ کمپنی کی دستاویزات قانونی معاونت کے تحت آئیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ تمام دستاویزات تصدیق شدہ نہیں ہیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات درست ہیں صرف دستخط شدہ نہیں۔ کمپنی نے نوازشریف کا متحدہ عرب امارات کا اقامہ بھی فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے دبئی اور برطانوی حکام کو 7 ،7 خطوط لکھے،اس کے علاوہ سعودی عرب کو بھی ایک خط لکھا لیکن اس کا جواب نہیں آیا۔ یو اے ای حکومت کو لکھے گئے خطوط رپورٹ کی جلد نمبر 10 میں ہوں گے جو ظاہر نہیں کی گئی، جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ضرورت محسوس ہوئی تو والیم 10 کو بھی کھول کر دیکھیں گے۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ شریف خاندان کے پاس آمدن سے زائد اثاثے ہیں،نواز شریف کے اثاثے بھی ان کی آمدن سے زائد ثابت ہوئے، اس کا ذکر جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل ہے، جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ آمدن سے زائد اثاثے ہونے کے کیا نتائج ہوں گے۔ جس پر نعیم بخاری نے کہا ہے کہ ہم نے عدالت سے نواز شریف کی نااہلی کا ڈیکلریشن مانگا ہے، نواز شریف کے خلا ف نیب کا مقدمہ بھی بنتا ہے۔نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنے دلائل میں کہا کہ توفیق آصف نے کہا کہ میری درخواست نواز شریف کی اسمبلی تقریر کے گرد گھومتی ہے،نواز شریف نے اسمبلی تقریر اور قوم سے خطاب میں سچ نہیں بولا، جے آئی ٹی کے مطابق نواز شریف نے تعاون نہیں کیا، انہوں نے نے قطری خطوط پڑھے بغیر درست قرار دیئے، نواز شریف نے کہا کہ قطری سرمایہ کاری کاعلم ہے مگر کچھ یاد نہیں، نواز شریف نے اپنے خالو کو پہچاننے سے انکار کیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز سارا پاکستان جان چکا ہے لیکن ہم جے آئی ٹی کی فائنڈنگز کے پابند نہیں، آپ کو یہ بتانا ہے کہ ہم جے آئی ٹی فائنڈنگز پر عمل کیوں کریں۔ جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ ہم جے آئی ٹی کی سفارشات پر کس حد تک عمل کر سکتے ہیں، بتائیں ہم اپنے کون سے اختیارات کا کس حد تک استعمال کرسکتے ہیں۔ جس پر توفیق آصف نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیر اعظم کی نااہلی کے لیے کافی مواد ہے، نعیم بخاری جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری سےعدالت کوآگاہ کرچکے۔ ہم جے آئی ٹی رپورٹ کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اسےدرست تسلیم کرتے ہیں۔ بادی النظر میں وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر بادی النظر کہہ دیا تو پھر کیس ہی ختم ہوگیا۔جماعت اسلامی کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کے تیسرے مدعی شیخ رشید نے اپنے دلائل دیئے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ثابت کیا کہ ملک میں ایماندار لوگوں کی کمی نہیں، جے آئی ٹی کی سپر6اور ججز کو قوم کی خدمت کا اجر ملے گا، انشائ اللہ انصاف جیتے گا اور پاکستان کامیاب ہو گا، ہر کیس کے پیچھے ایک چہرہ ہوتا ہے اور اس معاملے کے پیچھے نواز شریف کا چہرہ ہے، نواز شریف نے لندن فلیٹس کے باہر کھڑے ہو کر پریس کانفرنس کی، مریم نواز لندن فلیٹس کی بینیفشل مالک ثابت ہوئیں، جے آئی ٹی رپورٹ میں تو مزید آف شور کمپنیاں بھی نکل آئیں۔ جس عمر میں ہمارا شناختی کارڈ نہیں بنتا ان کے بچے کروڑوں کما لیتے ہیں، قوم کی ناک کٹ گئی کہ وزیر اعظم دوسرے ملک میں نوکری کرتا ہے، نواز شریف کا تنخواہ لینا یا نہ لینا معنی نہیں رکھتا،اب معاملہ ملکی عزت کا ہے، جو ڈھائی گھنٹے بعد اپنے خالو کو پہچانے اس پر کیا بھروسہ کیا جا سکتاہے، پی ٹی وی کا خاکروب 18 ہزار اور وزیر اعظم 5 ہزار روپے ٹیکس دیتا تھا اور تو اور 1500 ریال لینے والے کیپٹن صفدر کے بھی 12 مربے نکل آئے ہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ شیخ سعید اور سیف الرحمان نواز شریف کے فرنٹ مین ہیں، شیخ سعید نواز شریف کے ساتھ ہر عرب ملک کی میٹنگ میں ہوتے تھے، ان ملاقاتوں میں پاکستانی سفیروں کو بھی شرکت کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ صدر نیشنل بینک نے تسلیم کیا کہ وہ جعلسازی کرتے پکڑے گئے تھے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ نیشنل بینک کے موجودہ صدر کی بات کر رہے ہیں۔شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہم نے دو متفرق درخواستیں دائر کی ہیں، ایک درخواست جلد 10 فراہم کرنے سے متعلق جب کہ دوسری درخواست جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات سے متعلق ہے، دستاویزات اکٹھی کرنے میں جے آئی ٹی نے قانون کی خلاف ورزی کی، جے آئی ٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اس میں شامل دستاویزات کو ثبوت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جے آئی ٹی عدالتی احکامات سے کافی آگے چلی گئی تھی اور جے آئی ٹی نے عدالت کے کرنے والا کام کیا، رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکتا۔خواجہ حارث کے دلائل پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ اپنے دلائل کوایشوز تک محدود رکھیں تو آسانی ہو گی، چاہتے ہیں عوام اور عدالت کا وقت ضائع نہ ہو۔ جے آئی ٹی ٹرائل نہیں کر رہی تھی، الزامات اس نوعیت کے تھے کہ تحقیقات کروانا پڑیں اور گواہان کے بیانات آرٹیکل 161 کے تحت ریکارڈ کیے گئے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اپنے الفاظ کا چناو¿ احتیاط سے کریں۔ خواجہ حارث کے دلائل جاری تھے کہ کیس کی سماعت کل کے لیے ملتوی کردی گئی۔

سپریم کورٹ نے اہم حکم نامہ جاری کر دیا

اسلام آباد (خبریں ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران حسین نواز کی تصویر لیک کرنے والے کا نام سامنے لانے کا حکم دیدیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت شروع ہو چکی ہے جس دوران جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے بھی تصویر لیک کی تھی، اس کا نام سامنے آنا چاہئے۔جسٹس اعجاز افضل نے مزید کہا کہ اس معاملے پر کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں ہے جبکہ کمیشن قائم کرنا ان کے دائرہ اختیار میں بھی نہیں ہے تاہم اگر حکومت دلچسپی رکھتی ہے تو وہ اس پر کمیشن قائم کر لے۔

جے آئی ٹی : رحمن ملک کی شریف خاندان کیخلاف گواہی ، اہم ثبوت پیش

اسلام آباد (رپورٹنگ ٹیم ) پانامہ کیس کی تحقیقات، سنیٹر رحمن ملک نے جے آئی ٹی میں بطور گواہ پیش ہو کر بیان قلمبندکرا دیا۔ حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق 2000ءمیں ہونے والی تحقیقات کی دستاویزات بھی جمع کرا دیں۔سابق وز یر داخلہ کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس کے میچ کی پچ تیار کرنے والا رحمان ملک ہے ، آخر میں پتہ چلے گا کہ گول پیپلز پارٹی نے کیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے بننے والی جے آئی ٹی میں مزید 2خط جمع کرا دیئے ہیں۔پہلا خط وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے بنائے گئے ٹرسٹ کے حوالے سے ہے۔ یہ ٹرسٹ ایک سعودی اور امریکی باشندے کے ذریعہ کھولا گیا۔ خط میں شریف خاندان اور ایک شخص شیخ سعید کی مشترکہ منی لانڈرنگ کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسرے خط میں شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کی تفصیلات اور شواہد پیش کئے گئے ہیں۔ پہلا خط وزیراعظم کے بنائے گئے ٹرسٹ کے حوالے سے اور دوسرا خط شیخ سعید کے ساتھ مشترکہ منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔ رحمان ملک جے آئی ٹی میں کیا لے کر گئے؟ میڈیا نے کچھ دستاویزات حاصل کر لیں۔ سابق وزیر داخلہ کے اس وقت کے صدر پاکستان کو لکھے گئے دو خطوط کی کاپی میڈیا نے حاصل کر لی۔ پہلا خط وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے بنائے گئے ٹرسٹ کے حوالے سے ہے۔ یہ ٹرسٹ ایک سعودی اور امریکی باشندے کے ذریعہ کھولا گیا۔ خط میں شریف خاندان اور ایک شخص شیخ سعید کی مشترکہ منی لانڈرنگ کا ذکر کیا گیا ہے دوسرے خط میں شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کی تفصیلات اور شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے اور سابق وفاقی وزیر داخلہ سنیٹر رحمان ملک جوڈیشل کمیشن اکیڈمی پہنچے اور جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنیٹر رحمان ملک نے کہا کہ لوگ کہتے تھے میں پیش نہیں ہونگا اور وطن واپس نہیں آﺅں گا مگر ان کے دعوے غلط ثابت ہوئے جے آئی ٹی کو تمام ثبوت دونگا۔ رحمان ملک نے کہا کہ تفتیش اور رپورٹ میں 10 افسروں نے حصہ لیا میں نے ذاتی طور پر تحقیقات نہیں کیں تحقیقات سرکاری سطح پر کی گئیں اس وقت کے صدر کو لکھے گئے خط اور ثبوت لے کر جا رہا ہوں تحقیقات میں حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق منی لانڈرنگ کی ٹریل موجود ہے دستاویزات کے بعد مزید شواہد کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جے آئی ٹی میں پیشی بھگت کر واپس آنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سنیٹر رحمان ملک بولے میں یہاں کسی سے بدلہ لینے یا کسی کی حمایت کرنے نہیں آیا۔ اپنی رپورٹ کے ہر لفظ کی تصدیق کی جہاں کمی پیشی تھی وہ بھی پوری کر دی مجھے جے آئی ٹی پر مکمل اعتماد ہے دوبارہ بلایا گیا تو بھی پیش ہونگا ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے نہیں۔ لگتا کہ جے آئی ٹی کس کے ساتھ ناانصافی کرے گی۔ سابق صدر رفیق تارڑ کو لکھے گئے خط پیش کر دیئے۔ مجھے کہا گیا ہے کہ ہر چیز میڈیا کے ساتھ شیئر نہ کرو۔ رحمان ملک نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی میں نہایت پروفیشنل لوگ بیٹھے ہیں۔ ایک تفتیش کار کی حیثیت سے مجھے جے آئی ٹی پر مکمل اعتماد ہے۔ اگر آف شور کمپنیز رکھنے والوں میں میرا نام ہوتو استعفیٰ دے کر گھر چلا جاﺅں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں کسی کو نکالنے آیا ہو نہ پھنسانے میری رپورٹ سپریم کورٹ میں موجود ہے۔ سنیٹر رحمان ملک نے مزید کہا کہ پانامہ کی پچ میری تیار کی ہوئی ہے معاملے کو سیاسی نہیں قانونی طور پر ہینڈل کیا۔ وزیر داخلہ کو اطلاع بھی دی کہ مجھے سکیورٹی فراہم کی جائے مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنیٹر رحمان ملک نے کہا کہ پچھلے 15 دن سے پراپیگنڈا چل رہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ پیپلزپارٹی کا مک مکا ہو گیا ہے اور حکومت کو بچا لیا جائے گا۔ اس پراپیگنڈے پر میری یا پیپلزپارٹی کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا کیونکہ ہم نے اس معاملے کو سیاسی کی بجائے قانونی طور پر ہینڈل کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے میری ہی درخواست پر اس پراپیگنڈے کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ رحمان ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ میں میری جو رپورٹ موجود تھی اس کے ایک ایک حصے کی تصدیق کی ہے۔ جے آئی ٹی کے پاس ایک خط تھا میں نے صدر رفیق تارڑ کو لکھے جانے والے دو خطوط بھی پیش کیے ہیں۔ جے آئی ٹی کے روبرو انکوائری کا تمام ریکارڈ پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تمام ریکارڈ کی فوٹو کاپیز اس لیے موجود تھیں کیونکہ جب مجھے معطل کیا گیا تو اس وقت اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے یہ دستاویزات پیش کرنا پڑی تھیں اور مجھے چارج شیٹ کرتے وقت ان کی فوٹو کاپیز فراہم کی گئی تھیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمن ملک جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ اپنی بنائی ہوئی رپورٹ اور دستاویزات جے آئی ٹی کو فراہم کر دیں۔ نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق رحمن ملک جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے اور تمام دستاویزات جے آئی ٹی کو جمع کروا دیں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام تر ثبوت عدالت میں جمع کروا دئیے ہیں۔ یاد رہے کہ رحمن ملک نے 90 کی دہائی میں منی لانڈرنگ پر رپورٹ تیار کی تھی۔ انہوں نے یہ رپورٹ چیف جسٹس اجمل میاں اور چیف احتساب کمشنر کو بھی بھیجی تھی۔ 200 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ شریف خاندان اور لندن جائیداد کی خریدوفروخت کے حوالے سے مرتب کی گئی۔ انہوں نے یہ رپورٹ اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کو ستمبر1998 کو بھیجی۔ یہ رپورٹ 1993 سے 1998 کے درمیان ہی تیار کی گئی۔ مشرف دور میں مشرف نے اس رپورٹ کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ اس کے بعد بننے والی پی پی پی کی حکومت میں بھی رحمن ملک کی اس رپورٹ پر کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے 1984سے 1999 تک سیاست میں آ کر صنعتی طاقت حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق یہ دولت کمیشن، نجکاری اور منی لانڈرنگ کے ذریعے حاصل کی گئی۔ رپورٹ میں یہ الزام بھی ہے کہ نواز شریف کے سوئٹزر لینڈ اور برطانیہ میں پیسے اور جائیدادیں ہیں۔ نواز شریف خاندان کے 30 صنعتی یونٹس کے بڑے شیئر ہولڈر ہیں۔ رحمان ملک نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف صدر پاکستان رفیق تارڑ سے مطالبہ کیا کہ وہ اعلیٰ سطح کی تحقیقات کریں۔ اس کے علاوہ رحمن ملک نے صدر کو ایک خط بھی لکھا کہ انہیں حکومتی اداروں سے کارروائی کی امید نہیں ہے۔ ان پر یہ دباﺅ بھی ڈالا گیا کہ وہ دستاویزات وزیراعظم ہاﺅس میں جمع کروا دیں۔ انہیں منہ بند رکھنے کےلئے کہا گیا ورنہ سخت کارروائی کی دھمکی بھی دی گئی۔ یاد رہے کہ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت میں رحمن ملک کی اسی رپورٹ کا حوالہ دیا تو اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس گلزار نے کہا کہ رحمن ملک کی رپورٹ محض الزامات ہیں۔ اس سے کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ پولیس افسر کی رپورٹ رائے ہوتی ہے۔ جسے شواہد کے ساتھ ثابت کرنا ہوتا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ رائے کی بنیاد پر بغیر ثبوت فیصلہ کریں۔ جسٹس عظمت نے نعیم بخاری کو کہا کہ کچھ تو قانون کا لحاظ کریں۔ کیا عدالت کا فیصلہ کرنے کا اختیار رحمن ملک کو دے دیں۔ وزیراعظم کے داماد کیپٹن(ر) صفدر آج جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونگے۔ پیشی کے بعد مدینہ روانہ ہو جائینگے۔ نجی ٹی وی کے مطابق کیپٹن(ر) صفدر نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کےلئے مدینہ سے آیا ہوں اور پیشی کے بعد واپس وہیں جاﺅں گا۔ جے آئی ٹی سے 2 بار درخواست کی تھی کہ مجھے پیشی کےلئے پہلے بلا لیا جائے۔

تمام اداروں نے جے آئی ٹی کے الزامات مسترد کر دیئے، اٹارنی جنرل

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اٹارنی جنرل آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کو درپیش مشکلات پر عدالت میں اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ تمام اداروں نے جے آئی ٹی کے الزامات کو مسترد کیا ہے، لگتا ہے جے آئی ٹی نے زیادہ وقت ٹاک شوز دیکھنے میں گزارا اور سوشل میڈیا کی بھی بھرپور مانیٹرنگ کی گئی۔ اٹارجی جنرل کے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب کے مطابق عرفان نعیم منگی کو شوکاز نوٹس بدنیتی پر مبنی نہیں جبکہ آئی بی نے بھی بلال رسول اور ان کی اہلیہ کی فیس بک اکاو¿نٹ ہیک کرنے کی تردید اٹارنی جنرل کے مطابق وزیراعظم ہاو¿س کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کی جانب سے سمن لیک نہیں کیے گئے، یہ کام خود جے آئی ٹی نے کیا ہوگا، اگر جے آئی ٹی کے پاس اس سلسلے میں ثبوت ہیں تو پیش کرے، وزیراعظم آفس نے کسی گواہ کو ہدایات دینے کا الزام بھی مسترد کر دیا ہے۔ ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی جانب سے مانگا گیا تمام ریکارڈ بروقت فراہم کیا گیا، اس کے علاوہ ریکارڈ میں ردو بدل کا الزام بھی درست نہیں جبکہ وزارت قانون کے مطابق دو دن میں عملدرآمد کر دیا تھا۔

پاناما کیس؛ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی پیش رفت ،بڑی کامیابی حاصل کر لی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے پہلی پیش رفت رپورٹ تیار کرلی ہے جسے پیر کو عدالت عظمیٰ کے روبرو پیش کیا جائے گا۔روزنامہ خبریں کے مطابق پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی اپنی پہلی پیش رفت رپورٹ پیر کو سپریم کورٹ میں جمع کرائے گی اور عدالت عظمیٰ کو تحقیقات میں اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا، جے آئی ٹی کی اس رپورٹ میں آئی سی آئی جے کے نمائندے اور جاوید شفیع کے بیانات بھی شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے سوالات کی روشنی میں جے آئی ٹی کی تحقیقات جاری ہیں، ٹیم نے الیکشن کمیشن سے وزیر اعظم کے گوشوارے اور کاغذات نامزدگی حاصل کرلئے ہیں جب کہ نیب سے حدیبیہ پیپر ملز کیس اور ایف بی آر سے متعلقہ ریکارڈ منگوالیا گیا ہے۔ جے آئی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ فی الحال وزیر اعظم نے کوئی براہ راست سوال نہیں بنتا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی رکھی ہے جو 60 روز میں وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے اثاثوں سے متعلق اپنی تحقیقات مکمل کرنے کی پابند ہے۔

پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی آج سے کام کا آغاز کرے گی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے واجد ضیا کی سربراہی میں قائم 6 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) آج سے کام کا آغاز کریگی۔سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرارمحمد علی پہلے اجلاس میں پاناما کیس کے عدالتی فیصلے اورعدالت میں پیش کردہ ریکارڈ جے آئی ٹی کے سپرد کریںگے تاہم اس موقع پر وہ ٹیم کوکیس سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دیں گے۔ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کے قیام کے نوٹیفکیشن میں اس کے ٹی او آرز بھی درج کیے گئے ہیں اور تحقیقات کے لیے ٹائم فریم بھی مقرر کیا گیا ہے، جے آئی ٹی ان شخصیات کو بھی طلب کریگی جن پرالزامات عائدکیے گئے ہیں جبکہ بیرون ملک موجود سرمائے کی منتقلی سے متعلق شواہد تلاش کیے جائیں گے اور قطر سمیت دیگر ممالک سے رابطہ کر کے وہاں کی گئی سرمایہ کاری سے متعلق بھی شواہد کی فراہمی درخواست کی جائیگی۔

پاناما کیس: جے آئی ٹی کیلئے اسپیشل سیکشن قائم

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے لیے ایک اسپیشل سیکشن قائم کردیا۔ذرائع کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار محمد علی کو کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ ڈپٹی رجسٹرار اور اسسٹنٹ رجسٹرار جے آئی ٹی کوآرڈینیٹر کی معاونت کریں گے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل میں جے آئی ٹی اور بینچ کے درمیان رابطہ کوآرڈینیٹر کے ذریعے ہوگا۔ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی اپنی رپورٹ ہر 15 روز کے بعد کوآرڈینیٹر ایڈیشنل رجسٹرار کو جمع کرائے گی جبکہ بینچ کی جانب سے دیئے جانے والے احکامات بھی کوآرڈینیٹر کے ذریعے جے آئی ٹی کو موصول ہوں گے۔

پاناماکیس: جے آئی ٹی کیلئے سپریم کورٹ کو نام موصول

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاناما لیکس کیس میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے 6 اداروں کے ارکان پر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جےآئی ٹی) کے ناموں کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی۔عدالت عظمیٰ نے 20 اپریل کو اپنے فیصلے میں فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کو ایک ہفتے میں نام جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔ذرائع نے ڈان کو فہرست جمع کرانے کی مقررہ تاریخ سے ایک روز قبل بتایا کہ ‘سپریم کورٹ کو حکومت کے چھ اداروں کی جانب سے نام موصول ہو چکے ہیں’۔سپریم کورٹ نے متعلقہ اداروں کو 3،3 نام فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی جہاں سپریم کورٹ 6 رکنی جے آئی ٹی کے لیے ہرادارے سے ایک نام چن لے گی۔جے آئی ٹی کے اعلان کے ساتھ ہی مختلف سیاسی جماعتوں نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا تھا، چند کا خیال تھا کہ وزیراعظم مشکل میں ہوں گے جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ تفتیشی ٹیم شریف خاندان کے لیے صرف ‘ڈرائی کلیننگ شاپ’ ثابت ہوگی۔پیر (24 اپریل) کو پاک فوج کے کورکمانڈرز نے بھی سپریم کورٹ کے اعتماد کے پیش نظر جے آئی ٹی میں شفاف کردار ادا کرنے کے لیے ادارے کی شرکت کو یقینی بنانے کا اعلان کیا تھا۔

پاناما کیس فیصلہ ۔۔اب تک کی سب سے بڑی خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے پانچ رکنی لارجر بنچ سمیت چھ بنچ مختلف مقدمات کی سماعت کریں گے جبکہ لارجر بنچ اورنج لائن ٹرین منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کرے گا ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کاز لسٹ کے مطابق پہلا بنچ چیف جسٹس میاں ثاقاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاءبندیال ، جسٹس فیصل عرب ،دوسرا بنچ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان ،جسٹس منظور احمد ملک پر مشتمل ہو گا جبکہ لاہور میٹرو ٹرین منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کے لیے تشکیل دیا گیا پانچ رکنی لارجر بنچ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید ،جسٹس مقبول باقر ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل ہوگا ، چوتھا بنچ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر پانچواں بنچ جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن ، چھٹا بنچ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود پر مشتمل ہوگا ۔ یاد رہے کہ پانامہ لیکس کا محفوظ فیصلہ سنانے کے لیے آئندہ ہفتے بھی کوئی بنچ تاحال تشکیل نہیں دیا گیا ہے اور پانامہ لیکس کے مقدمے کی سماعت کرنے والے بنچ کے رکن جسٹس گلزار احمد بھی آئندہ کسی بنچ میں شامل نہیں ہے supreme court of pakistan

اورنج لائن منصوبے پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہاہے کہ حکومت ماس ٹرانزٹ منصوبہ تعمیر کرنا چاہتی ہے تو کرے منصوبے کی تعمیر سے تاریخی عمارات کو نقصان نہ پہنچے‘ دوران تعمیر چرچ کی عمارت گرانے کی اجازت نہیں دیں گے‘ ملک میں ہر طرف بداعتمادی کی فضا ہے‘ عدلیہ سمیت کسی ادارے پر اعتماد نہیں کیا جاتا‘ ماضی کو محفوظ رکھنے والی قوموںکا مستقبل محفوظ ہوتا ہے’ جس کو ماس ٹرانزٹ پسند نہیں وہ گاﺅں چلا جائے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں اورنج لائن میٹرو منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی۔ وکیل نیسپاک شاہد ماجد نے عدالت کو بتایا کہ اورنج لائن پراجیکٹ کا روٹ 2007 میں تجویز کیا گیا منصوبہ کی تعمیر سات کلومیٹر زیر زمین کی جائے گی جبکہ پچیس کلومیٹر تعمیر زمین سے اوپر کی جائے گی۔ ماحولیاتی اثرات سے متعلق عوامی عدالت بھی لگائی گئی۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ میری نظر میں جہاں ماس ٹرانزٹ نہ ہو وہ شہر نہیں جس کو ماس ٹرانزٹ پسند نہیں وہ گاﺅں چلا جائے۔ بات دو سو فٹ کے اندر تعمیر کی بھی نہیں ہے ۔ وکیل شاہد ماجد نے کہا کہ کسی تاریخی عمارت کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ مغلیہ دور کی تعمیرات آپ کی حکومت پنجاب جیسی نہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ حکومت ماس ٹرانزٹ منصوبہ تعمیر کرنا چاہتی ہے تو کرے منصوبے کی تعمیر سے تاریخی عمارات کو نقصان نہ پہنچے۔ دوران تعمیر چرچ کی عمارت گرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ تعمیرات سے پرانی عمارتوں کے متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ شاہد حامد نے کہا کہ میٹرو ٹرین روٹ تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ شاہد حامد نے کہا کہ میٹرو ٹرین کا ٹریک سڑک کے درمیان سے گزرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیا لازمی ہے چوبرجی کے اوپر سے ہی ٹرین گزرے۔ شاہد حامد نے کہا کہ سڑک درمیان ٹریک سے خوبصورت نظارے دیکھنے کو ملیںگے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خوبصورت نظارے سڑک سے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ماصی کو محفوظ رکھنے والی قومتوں کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔ (ن غ)