Tag Archives: channel 5

ملکی سیاست میں بھونچال،پانامہ فیصلے کے بعد عمران خان کا دھماکہ دار اعلان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے وزیراعظم کے استعفیٰ کے لئے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 28 اپریل کو جلسے کا اعلان کیا ہے۔پارلیمنٹ ہاو¿س میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے ججز نے وزیراعظم کے حوالے سے جو تاریخی ریمارکس دیئے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنے، سپریم کورٹ کے سینئر ججز نے کہا کہ نوازشریف نا اہل ہیں کیونکہ انہوں نے جھوٹ بولا جب کہ دنیا کے کسی ملک میں اگر ججز کی جانب سے وزیر اعظم کے لیے اس طرح کی رائے دی جاتی ہے تو وزیراعظم کی پارٹی کے ممبران ہی ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ججزکی جانب سے نوازشریف کے لیے ان ریمارکس کے بعد پارٹی ممبران کیسے عوام کے پاس جائیں گے، ڈیوڈ کیمرون کوکیا ضرورت تھی استعفی دینے کی لیکن اس نے کہا کہ میرا وزیراعظم رہنے کا اخلاقی جوازختم ہوگیا، سپریم کورٹ نے قطری کا خط بھی مسترد کردیا۔عمران خان نے کہا کہ عدالت نے ہمارے الزامات پر جے آئی ٹی بنائی ہے، ایک طرف سپریم کورٹ کہتی ہے کہ انصاف کے ادارے مفلوج ہو گئے ہیں، نیب کی کارکردگی سب کے سامنے ہے تو اب یہ ہی ادارے نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کیسے تحقیقات کریں گے، اداروں نے کام کرنا ہوتا تو نوازشریف کب کے پکڑے جا چکے ہوتے۔

”ہر عظیم خزانے کے پیچھے کوئی جرم ہوتا ہے “….پانامہ کیس کے فیصلہ کا حیران کن موڑ

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاناما لیکس کے بڑے کیس کے فیصلے کی شروعات اختلافی نوٹ سے کی گئی۔ فیصلے کے آغاز میں ایک مافیا پر لکھے گئے مشہور ناول گاڈ فادر کا حوالہ دیا گیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے لکھا کہ “دولت کے ہر ذخیرے کے پیچھے جرم کی داستان چھپی ہے”۔ ایسا اتفاق ہے کہ یہ جملہ نواز شریف کے خلاف کیس پر صادر آتا ہے۔ بڑی کامیابی کا اصل راز ایک جرم ہے، جو مہارت سے سرانجام دینے کے باعث سامنے نہیں آیا۔ جسٹس آصف سعید نے کہا کہ مشہور ناول “گاڈ فادر” اس جملے سے متاثر ہو کر لکھا گیا۔ محض اتفاق ہے کہ پاناما کیس میں عمران خان نے وزیراعظم پر ایسا ہی الزام لگایا۔پانامہ کیس فیصلے میں 1969 میں شائع ہونے والے ناول ’گاڈ فادر‘کا بھی تذکرہ ہے۔پانامہ کیس فیصلے میں ناول سے ایک جملہ اقتباس کے طور پر لیا گیا ہے کہ ”ہرعظیم خزانے کے پیچھے کوئی جرم ہوتا ہے“۔ یہ ناول ایک اطالوی مافیا باس کی زندگی پر مبنی ہے۔ اس مافیا باس کے پاس اتنی کثیر تعداد میں دولت تھی کہ اس سے متعلق مشہور ہے کہ اس کی ماہانہ آمدن کے طور پرآنے والے کرنسی نوٹ باندھنے کے لیے ہی صرف ہرماہ ڈھائی ہزارڈالر کی ربربینڈ خریدی جاتی تھی۔اس کی موت کے بعد جب اس کی غیر قانونی دولت کا تخمینہ لگایا گیا تومعلوم ہوا کہ اس کی ہفتہ وار کمائی 400 ملین ڈالر سے تجاویز کر چکی تھی۔ اس حوالے سے مافیا باس کے بیٹے نے ایک انٹرویو میں انکشاف کرتے ہوئے کہا تھاکہ جو رقم سامنے آئی وہ کل جمع شدہ غیر قانونی رقم کاصرف ایک فیصد بھی نہیں جو میرا باپ منشیات کی اسمگلنگ سے کماتا تھا۔