All posts by admin

”30منٹ ملاقات“, گفتگو کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ملاقات ہوئی ہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق آرمی چیف سے شہبازشریف کی ملاقات جی ایچ کیو میں ہوئی جو کہ تقریبا 30منٹ تک جاری رہی جس دوران مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے گزشتہ روز موٹروے کے ذریعے لاہور آنے کافیصلہ کیا تھا تاہم ہفتے کے روز یہ فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے انہوں نے کارکنوں کے اصرار پر جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور آنے کا اعلان کیا تھا۔

طاہر القادری کی آمد, سیاسی حلقوں میں ہلچل

لاہور(این این آئی) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری آج (منگل) کو وطن واپس پہنچیں گے، ناصر aباغ میں جلسے سے خطاب کے بعد داتا دربار حاضری دیں گے۔ ترجمان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی منگل کی صبح آٹھ بجے اوسلو سے لاہور پہنچیں گے اور یہاں سے انہیں ریلی کی صورت میںناصر باغ لایا جائے گا جہاں وہ جلسے سے خطاب کرینگے۔ ڈاکٹر طاہر القادری داتا دربار پر حاضری دیں گے اور اس کے بعد اپنے گھر ماڈل ٹاﺅن کےلئے روانہ ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی وطن واپسی پر کور کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں قصاص تحریک کے اگلے راﺅنڈ کی تیاریوں کا جائزہ اور آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

ایل ڈی اے نے شہریوں پر ایک اور ٹیکس بم گرا دیا

لاہور(خصوصی رپورٹ)ایل ڈی اے نے لاہوریوں پر ایک اور ٹیکس بم گرا دیا۔کورڈ ایریا کے بعد این او سی کے حصول پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کمرشل اور گھریلو عمارتوں کی تعمیر پر این او سی مفت ملتے تھے ،ایل ڈی اے کی ذیلی ایجنسی ٹیپا اب ہر رپورٹ پر فیس وصول کریگی۔ ٹیپا رپورٹ کے عوض کمرشل عمارت سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے ، پارکنگ معاہدے پر 50 ہزار روپے فیس وصول کریگی۔ پٹرول پمپ کیلئے پراسیس فیس کے 5 ہزار روپے وصول کئے جائینگے ، پٹرول پمپ کا این او سی جاری کرنے کیلئے 3 لاکھ روپے فیس مقرر کر دی گئی۔سٹرکچر پلان روڈ پر سوسائٹی کی مارکنگ کے عوض بھی فیسیں وصولی کی جائیں گی۔400کنال تک سوسائٹی کی مارکنگ کے عوض اڑھائی لاکھ ،800کنال تک5لاکھ اور 800 کنال سے زائد کیلئے 7لاکھ روپے فیس مقرر کر دی گئی۔ایل ڈی اے کی گورننگ باڈی کی منظوری کے بعد نئے ٹیکسز کا نفاذ کر دیا گیا۔

سورة المزمل سے مشکلات کا حل

مصیبت سے نجات:اگر کسی کو کوئی مشکل پیش آگئی ہو یا کسی مصیبت میں مبتلا ہوگیا ہو، نجات کی کوئی راہ دکھائی نہ دیتی ہو تو چاہئے کہ بدھ، جمعرات اور جمعہ کے دن نماز فجر کی ادائیگی کے بعد اسی جگہ پر بیٹھا رہے اور اکتالیس مرتبہ روزانہ سورة مزمل پڑھے۔ سورة مزمل پڑھتے وقت اپنا سر سجدے میں رکھے اور مسجد میں ہی رب تعالیٰ سے دعا مانگے کہ خدا تعالیٰ اس پر سے مصیبت ہٹادے۔ رب تعالیٰ نے چاہا تو اس کی دعا تین دن کے اندر پوری ہوجائیگی۔ باری تعالیٰ سورة مزمل کی برکت سے اس پر اپنا خصوصی فضل و کرم نازل فرمائے گا اور اس پر سے مصیبت کو ٹال دے گا۔ استخارہ: استخارہ کرنے کی غرض سے یہ نماز بہت ہی مجرب و مفید پائی گئی ہے۔ اس کی صحت پر یقین کامل ہے۔ یہ نماز اگر تہجد کے وقت پڑھی جائے تو بہت بہتر ہے اور مطلوبہ مقصد میں فوری کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ اگر رات کے کسی بھی پہر میں پڑھی جائے ، یعنی جس وقت پڑھنے میں آسانی ہو تو پھر بھی ٹھیک ہے، لیکن وہ ضروری ہے کہ یہ نماز تنہائی میں ادا کی جائے اور توجہ یکسوئی کے ساتھ ادا کی جائے۔اس نماز کے بے شمار فوائد ہیں جو بھی مخفی امور ہوں ،اس نماز کے ذریعے منکشف ہوجاتے ہیں اور دریافت کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس استخارہ کے ذریعے کسی کام کا ہونا یا نہ ہونا ،کرنا یا نہ کرنا آسانی سے دریافت ہوسکتا ہے۔ اس کو پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ رات کے وقت باوضو حالت میں کسی جگہ پر پاکیزہ لباس پہن کر بیٹھے کر جہاں پر مکمل تنہائی ہو، کسی کی مداخلت کا اندیشہ ہو ، تنہائی میں قبلہ رو بیٹھ کر پہلے گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے اور گیارہ مرتبہ کلمہ تمجید یعنی تیسرا کلمہ پڑھے۔ پڑھنے کے بعد رب تعالیٰ سے دعا مانگے اور جو کچھ پڑھا ہے ، اس کا ثواب تمام بزرگان ، اولیاءکرام کی ارواح مقدسہ کو ہدیہ کرے۔ پھر دو رکعت نماز نفل نماز استخارہ کی نیت کے ساتھ اس طرح ادا کرے کہ پہلی رکعت میں سورة فاتحہ کو شروع کرکے جب چوتھی آیت پر پہنچے تو اس کی تکرار کرنا شروع کرے اور اپنے مطلب کا خیال رکھے۔ رب تعالیٰ نے چاہا تو اسی آیت مبارکہ کے پڑھتے پڑھتے والا یا دائیں طرف یا پھر بائیں طرف پھر جائے گا۔ جب اس طرح پھر جائے تو پھر سورة فاتحہ مکمل کرکے ساتھ ہی سورة اخلاص پڑھے اور نماز مکمل کرنے کے بعد اسلام پھیردے۔اگر دائیں طرف پھرے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کام کرلے یا وہ کام ہوجائے گا اور اگر بائیں طرف پھرا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کام نہ کرے یا یہ کام نہ ہوگا۔

نیب میں پیشی کی بجائے ۔۔۔فیصلہ کر لیا

راولپنڈی(بشارت فاضل عباسی سے) میاں محمد نواز شریف سے نیب کورٹس میں پیش نہ ہونے کا اصولی فیصلہ کرلیا، ذرائع کےمطابق نواز شریف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریویوپٹیشن میں ریلیف نہ ملنے کی صورت میں نیب کورٹ میں پیش نہیں ہونگے، نیب کورٹس کی کیا جرا¿ت ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایک جج کی نگرانی میں نواز شریف کے خلاف کارروائی نہ کریں، اس لئے نواز شریف گرفتاری دے دینگے، لیکن نیب عدالت میں پیش نہیں ہونگے، ذرائع کے مطابق گزشتہ روز میٹنگ کے دوران نواز شریف خوشگوار موڈ میں تھے انہوں نے کہا کہ مری میں موسم اتنا اچھا ہے تو ڈونگہ گلی میں کیسا ہوگا اسکے بعد وہ اپنے وفد کے ہمراہ ڈونگہ گلی روانہ ہوگئے۔

بال بال بچ گئے مگر پاور شو میں بڑا خطرہ ،خود کش حملے بارے اہم ترین خبر

لاہور، اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نوازشریف کے لاہور اور جی ٹی روڈ پر واقع مختلف شہروں میں تاریخی استقبال کیلئے تیاریاں مکمل کرلی گئیں، استقبالیہ قافلوں کو حتمی شکل دے دی گئی۔ نوازشریف راستے میں 14 مقامات پر عوام سے خطاب کریں گے۔ جن مقامات پر نوازشریف کا خطاب متوقع ہے ان میں روات، جہلم، سرائے عالمگیر، گجرات، مریدکے، فیروز والا، شاہدرہ موڑ اور نیازی چوک شامل ہیں۔ نوازشریف پیر کو بھی پنجاب ہاو¿س میں جی ٹی روڈ پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کے انتخابات کے بارے میں بریفنگ لیتے رہے۔ وزیرداخلہ نے جی ٹی روڈ پر عوامی اجتماع کو محفوظ اور فول پروف بنانے کے اقدامات بارے سابق وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ نوازشریف کے روڈ شو کے لیے تمام سہولتوں سے مزین ایئرکنڈیشنڈ ٹرک تیار ہورہا ہے جبکہ بلٹ پروف اور جیمر والی پجارو بھی تیار ہے۔ نوازشریف کی جی ٹی روڈ سے لاہور آمد سے متعلق وفاق اور پنجاب کے حکومتی عہدیداروں و افسروں نے سرجوڑ لیے، متعدد اہم اجلاس ہوئے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے سکیورٹی خدشات کو دیکھتے ہوئے رینجرز کے جوانوں کی خدمات لینے کی تجویز سامنے رکھ دی۔ دو ہفتے کے لیے لاہور میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی، تمام ہوٹلز، ہاسٹلز عارضی طور پر رہائش پذیر افراد کا مکمل ڈیٹا چیک کرنے اور مشکوک افراد کی کڑی نگرانی کا حکم دے دیا گیا۔ پنجاب حکومت کے افسروں و حکومتی عہدیداروں کی بریفنگ کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوئے اور وہاں پر پنجاب میں موجود انتظامات سے آگاہ کیا گیا۔ محکمہ داخلہ پنجاب حکام کے مطابق مکمل حکمت عملی آج فائنل ہو جائے گی۔ معلوم ہوا ہے کہ دفاعی قوتوں کی زیر نگرانی کام کرنے والے حساس ادارے پچھلے 4دنوں سے مسلسل ن لیگ کی وفاقی حکومت کو مشورے دے رہے ہیں کہ وہ لاہور تک اپنے قافلے کو جی ٹی روڈ کی بجائے موٹر وے کے ذریعے لاہور جانے پر تیار ہو جائیں۔ حساس اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان دفاعی اداروں کو اس بات سے کوئی دلچسپی ہے نہ وہ اسے اپنے لئے کوئی خطرہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف عوامی سطح پر کوئی بڑا مظاہرہ کریں۔ پاکستان کی افواج کا حتمی فیصلہ یہی ہے کہ وہ ہرگز سول حکومت کی بالادستی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتی لیکن انہیں مکمل یقین ہے کہ وہ خود نواز شریف کی اپنی سکیورٹی خطرے میں ہے۔ حساس اداروں کی یہ بھی اطلاعات ہیں کہ راولپنڈی سے جہلم تک تصادم کا کوئی خطرہ نہیں لیکن کسی بھی جگہ پر ن لیگ کے بڑے جلسوں یا بڑے مظاہروں میں تصادم ہو سکتے ہیں۔ بالخصوص گجرات، گوجرانوالہ اور لاہور کے مضافات میں مخالف سیاسی ووٹروں کے طرف سے مزاحمت بھی متوقع ہے تاہم نواز شریف تک براہِ راست بھی اطلاعات پہنچائی گئیں وہ کسی قیمت پر اپنا پروگرام ترک یا تبدیل کرنے کےلئے تیار نہیں۔ دریں اثناءلاہور میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے استقبال کیلئے جنوبی پنجاب سے بھی قافلے روانہ ہوں گے۔ ملتان سے وقائع نگار خصوصی کے مطابق میاں محمد نوازشریف کے 9اگست کو لاہور کے استقبال میں مسلم لیگ (ن) ملتان کے عہدیداران کے قافلے آج سے روانہ ہونے شروع ہو جائیں گے حالانکہ تنظیمی سطح پر لاہور سے باہر کے کارکنوں کو مدعو نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے سٹی صدر رانا شاہد الحسن، سٹی جنرل سیکرٹری و سابق ایم این اے شیخ طارق رشید کی قیادت میں الگ الگ قافلے لاہور جا کر میاں نوازشریف کا استقبال کریں گے۔ مزید برآں مسلم لیگ(ن) یوتھ ونگ کے سٹی صدر زاہد عدنان گڈو، یوتھ ونگ رہنما سہیل فراز، عبدالرحمن فری نے کہا ہے کہ قائد نوازشریف کے استقبال کے لئے ملتان سے ہزاروں متوالے کارکن شریک ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے استقبال کی تیاریوں کے سلسلے میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں خواتین رہنماﺅں ثروت خان، فہمیدہ چوہان سمیت چودھری آصف، آفتاب جٹ، منور خان ایڈووکیٹ، عمران انصاری، نوید جٹ، ملک کمیل، مرزا جنید، عثمان عزیز، رانا اشتیاق، معین قریشی، عامر قریشی، حاجی رمضان، میاں اویس، ماجد شفیع، ملک شفیق نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ وہاڑی سے بیورورپورٹ، سٹی رپورٹر کے مطابق ایم پی اے فرح منظور رند کی قیادت میں میاں نوازشریف کے والہانہ استقبال کے لئے خواتین کا قافلہ منگل کو بابو صابو انٹر چینج پر اپنے قائد کے استقبال میں شریک ہوگا، قافلہ میں ضلعی نائب صدر مسلم لیگ (ن) شعبہ خواتین نوشین ملک، مریم، اقصیٰ کے علاوہ دیگر خواتین شامل ہیں۔ خانیوال سے سٹی رپورٹر کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا خالد علی تاج کی زیر قیادت میاں نوازشریف کی لاہور آمد پر قافلہ لاہور روانہ ہوگیا۔ انہوں نے قافلہ کی قیادت کرتے ہوئے کہا کہ میاں نوازشریف کی لاہور آمد پر تاریخی استقبال ہوگا۔
رینجرز کے حوالے

لاہور(کرائم رپورٹر) لاہور کے علاقے آو¿ٹ فال روڈ سگیاں پل بند روڈ پر تاج کمپنی کے سامنے ورکشاپ کے گراو¿نڈ میں تین روز سے کھڑے ٹرک میں زوردار دھماکہ ہواجس سے 45افراد زخمی ہوگئے۔ٹرک مکمل طور پر تباہ، ورکشاپ کی عمارت ملبے کے ڈھیر میں تبدیل، اردگرد کی دیگر عمارتیں بھی جزوی طور پر تباہ ہوگئیں۔ٹرک چوری کا تھا۔ نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ اس حملے کانشانہ سابق وزیر اعظم نواز شریف تھے۔ ٹرک ہفتے کے دن لایا گیا تاہم ہفتے کے دن ہی نواز شریف نے اپنا لاہور آنے کا روٹ اور دن تبدیل کیا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ٹرک سوات سے آیا تھا جبکہ اس پر خوبانی کا پھل لوڈ تھا۔ ٹرک کے اندر 200سے 250کلو گرام بارودی مواد موجود تھا ۔ جائے وقوعہ سے ایک لاش بھی ملی ہے جس کی شناخت امانت علی کے نام سے ہوئی ہے جو گوجرانوالہ کا رہائشی ہے۔ دریں اثناءلاہورمیں سگیاں پل کے قریب مقابلے کے دوران 4دہشت گرد مارے گئے ۔3فرار ہوگئے ۔ ذرائع کے مطابق 7دہشت گرد لاہورسے شیخوپورہ آرہے تھے کہ سی ٹی ڈی سے مقابلہ ہوگیا۔ہلاک دہشت گردوں کاتعلق کالعدم تحریک طالبان سے بتایاگیا ہے جن سے اسلحہ اور بارودی مواد برآمد ہوا ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی ریلی کو بھی اسلام آباد سے لاہور آتے اسی روٹ سے گزرنا تھا جہاں ٹرک میں بم دھماکہ ہوا۔ ریلی نے اس راستے سے ہوتے ہوئے حضرت علی ہجویریؒ دربار پہنچ کر ختم ہونا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ دہشت گردوں کا نشانہ ریلی ہو مگر ریلی کا روٹ چند روز قبل بدلا گیا اور ریلی کا وقت بھی بدلا گیا جس سے لاہور بڑے نقصان سے بچ گیا۔
روٹ تبدیل

جوتا مارنے پر 50ہزار انعام

کراچی (خصوصی رپورٹ)تحریک انصاف کے حامی سوشل میڈیا پر عائشہ گلالئی پر تشدد کیلئے اکسانے لگے۔ مختلف پوسٹوں میں کہاگیا ہے کہ جو بھی عائشہ گلالئی کو جوتا مارے گا اسے پچاس ہزار انعام دیا جائے گا۔ اسی طرح عائشہ گلالئی پر تیزاب پھینکنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنان نے عائشہ گلالئی کو تحفظ دینے اور تحریک انصاف کی مہم بند کرنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کارروائی کا مطالبہ کردیا۔انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو تحقیقاتی کمیٹی کے ساتھ تعاون کرکے بے گناہی ثابت کرنا چاہیے۔قومی اسمبلی کی خاتون رکن کی جانب سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر عائشہ گلالئی پرتشدد کیلئے اکسایا جارہا ہے۔ ٹویٹر، فیس بک اور دیگر سماجی ویب سائٹس پر کہا جارہا ہے کہ جو بھی عائشہ گلالئی پر تشدد کارروائی کرے گا اسے انعامات دئیے جائیں گے۔ ایک فیس بک پوسٹ میں کراچی کے آصف خان تنولی نے لکھا کہ عائشہ گلالئی کو ہماری پی ٹی آئی کی جو خاتون جوتا مارے گی،میری طرف سے کیش 50,000 کا انعام“۔ اسی طرح ایک ٹویٹر اکاﺅنٹ میں Imran calibri کی جانب لکھا گیا ہے کہ یعنی میری خواہش ہے کہ کوئی عائشہ گلالئی کے چہرے پر تیزاب پھینک دے۔ اس کے ساتھ ایک بیہودہ جملہ بھی تحریر کیاگیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی ایسی پوسٹیں ہیں، جن میں انتہائی گھٹیا الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ ذرائع نے آصف خان تنولی سے رابطہ کیا توانہوں نے اقرار کیا کہ ہاں اس نے یہ پوسٹ کی ہے، کیونکہ اس کادل کررہا تھا۔ جب ان سے کہا گیا کہ آپ اس سے اشتعال دلانے کے مرتکب نہیں ہورہے؟ تو ان کا کہنا تھا ”عائشہ گلالئی نے بھی تو اشتعال انگیزی کی ہے۔ میں نے یہ پوسٹ بطور کارکن ذاتی حیثیت میں کی ہے۔ میں خود اس کا ذمہ دار ہوں۔“ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکن محمد جبران ناصر ایڈووکیٹ نے اس ساری صورتحال کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ ان کے مطابق عائشہ گلالی نے براہ راست عمران خان کے بارے میں بات کی تھی۔ اس میں انہوں نے عمران خان کے خاندان ، ان کی سابقہ بیویوں وغیرہ پر کوئی بات نہیں کی تھی۔ مگر اس وقت تحریک انصاف اور ان کے حامیوں نے براہ راست عائشہ گلالئی کے خاندان کو ٹارگٹ بنالیا ہے۔ جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ”کیا عمران خان نہیں جانتے تھے کہ ان کے ترجمان لاہور میں بیٹھ کر ان کی صفائی پیش کرتے ہوئے عائشہ گلالئی پر کیا الزام لگادیں گے۔ عمران خان کے ترجمان نے پارٹی چیئرمین کی صفائی دینے کے بجائے عائشہ گلائی کے خاندان کو ٹارگٹ بنالیا۔ تسلیم کرلیتے ہیں کہ کارکنان کی تربیت میں برسوں لگ جاتے ہیں، مگر عمران خان کے اردگرد رہنے والے اور ان کے ترجمان کی تربیت تو ہونی چاہیے کہ کس وقت کیا بات کرنی ہے اورکیا کہنا چاہیے اور اخلاقیات کیا ہوتی ہے۔ محمد جبران ناصر نے کہا کہ عائشہ گلالئی کے الزامات کے حوالے سے بات چیت چلتی رہے گی۔ یہ ختم ہونیوالی نہیں ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ عائشہ گلالئی کے الزامات کے بعد متعلقہ فورم پر بات ہوتی۔ تحقیقات ہوتیں مگر جس طرح عائشہ گلائی کو ٹارگٹ کیاگیا، اس کے بعد اگر کسی خاتون کو شکایت ہوگی تو کبھی بھی وہ اپنی شکایات کو سامنے نہیں لائے گی۔ ہراساں کرنے کے کلچر کو اتنا پھیلا دیا گیا ہے کہ کوئی بھی بات کرنے کی جرا ت نہیں کرے گا۔ ایک اور سوال پر جبران ناصر کاکہنا تھا کہ ”پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19میں واضح طور پر بتادیاگیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کیا ہے۔ اس کے تحت اور سائبر کرائم بل کے تحت کسی کو دھمکیاں دینا اور اخلاق سے گری ہوئی باتیں کرنا جرم ہے اور اس کیلئے سزائیں بھی موجود ہیں۔عمران خان اور تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کریں تاکہ سچ کا پتا چل سکے“۔انسانی حقوق کے ایک اور کارکن حسیب خواجہ کا کہنا تھا کہ جس طرح سوشل میڈیا پر سرعام عائشہ گلالئی کو نشانہ بنایا جارہا ہے، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ جواب، موقف اور صفائی دینا تحریک انصاف کاحق ہے، مگر اس میں اخلاقیات کا پاس بھی رکھنا چاہیے تھا ، جو نہیں رکھا گیا۔ ابھی تک عمران خان کی جانب سے اپنے کارکنان اوررہنماﺅں کو یہ نہیں کہا گیا کہ وہ عائشہ گلالئی کے حوالے سے اخلاقیات سے گری ہوئی باتیں نہ کریں اور انہیں خوفزدہ نہ کیا جائے۔عمران خان کو چاہیے کہ وہ میڈیا پر سامنے آکر عائشہ گلالئی کے ساتھ ہونے والے سلوک پر معافی مانگیں اور ان کے جن جن لیڈروں اور کارکنان نے بیہودہ باتیں کی ہیں ، ان کو پارٹی سے نکالیں۔“ ڈاکٹر پروین نے عائشہ گلالئی کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بھی اس حوالے سے قانونی کارروائی کرے۔پی ٹی آئی کا موقف حاصل کرنے کے لئے تحریک انصاف کے مرکزی میڈیا سیل سے رابطہ قائم کیا، مگر کوئی جواب نہیں ملا۔

وکیل بننا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ،ایل ایل بی امتحان میں نقل کی سہولت میسر

لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب یونیورسٹی کے ایل ایل بی امتحانات میں رقم کے عوض نقل کرانے کا انکشاف ہوا ہے۔ دوران امتحانات لارنس روڈ پر واقع امتحانی سنٹر میں ہزار روپے فی سوال اور 5ہزار روپے میں پورا پرچہ حل کرایا جاتا رہا۔ طلبہ نے الزام عائد کیا کہ نگران عملہ نے امیدواروں کو کھلے عام نقل کرائی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لارنس روڈ پر امتحانی سنٹر کے سب سنٹر ایم میں نقل کی اطلاع پر پنجاب یونیورسٹی کی ٹیم نے چھاپہ مارا‘ عملہ تبدیل کیا گیا لیکن نقل پھر بھی جاری رہی۔ ترجمان پنجاب یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام فول پروف ہے‘ کوئی شکایت نہیں ملی۔
نقل

”اسلامی پاکستان “کیپٹن (ر)صفدر کا دھماکہ دار اعلان

اسلام آباد(ویب ڈیسک)مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) صفدر نے کہا ہے مسلم لیگ ن ملک میں جمہوریت چاہتی ہے اورآئین کو پامال نہیں ہونے دیں گے کیونکہ آمریت نے ملک کو کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا میں بھٹو کو شہید کہتا ہوں، انہیں آئین بنانے کے جرم میں پھانسی دی گئی۔نوازشریف نے موٹر وے بنایا تو 58ٹو بی لگا۔ اسی طرح نوازشریف نے ایٹمی دھماکا کیا تو مارشل لاءلگ گیا۔ اور عوامی لیڈر کو جلا وطن کردیا گیا،مگر کبھی تو آئین کو پامال کرنے والے لوگوں پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہوگا،قومی اسمبلی میں اجلاس کے دوران کیپٹن (ر) صفدر نے کہا ہم ملک میں جمہوریت کی بالادستی چاہتے ہیں۔ ملک کے آئین کو پامال نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا ہم 22 کروڑ عوام کے ووٹ کے تقدس کیلئے باہر نکلے ہیں اور2018 کے الیکشن کے بعد اسلامی پاکستان کا دھماکا کرینگے ان کا کہنا تھا جن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں وہ نواز شریف کی بات کرتے ہیں نوا زشریف کو آرٹیکل 62 اور 63 کے ذریعے نااہل کیا گیا۔ انہوں نے کہا چودھری غلام سرور کا احترام کرتا ہوں لیکن جو الفاظ انھوں نے اداکئے وہ انہیں زیب نہیں دیتے ہمارے مخالفین پر بجلی چوری کے مقدمات درج ہیں ،چودھری غلام سرورٹیکسلا کے سارے پہاڑچاٹ گئے اورضمنی الیکشن میں ان کا بھتیجا شکست کھا گیا۔

ماہرہ اور فواد خان کی فلموں پر بھارت میں پابندی کی تلوار لٹکنے لگی

ممبئی(شوبز ڈیسک) پاکستانی اداکار ماہرہ خان نے بالی ووڈ فلم ”رئیس“ میں شاہ رخ خان کے مد مقابل کردار ادا کیا جب کہ فواد خان فلم” اے دل ہے مشکل“ میں ایشوریا رائے اور رنبیر کپور کے ساتھ جلوہ گر ہوں گی لیکن بھارت میں بڑھتی ہوئی پاکستان دشمنی کے باعث اب دونوں فلموں پر پابندی لگائے جانے کا امکان ہے۔گزشتہ دنوں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے پاکستانی فنکاروں کو ملک چھوڑنے اور ان کی فلموں کی ریلیز روکنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں جس کے بعد پروڈیوسرز ایسوسی ایشن نے بھی پاکستانی اداکاروں اور ٹیکنیشنز پر پابندی لگادی لیکن اب بھارت میں فواد خان اور ماہرہ خان کی فلموں پر بھی پابندی کی تلوار لٹکنے لگی ہے۔ سینما اونرز ایگزیبیٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا(سی او ای اے آئی)نے کل اجلاس طلب کیا ہے جس میں پاکستانی اداکاروں کی ریلیز ہونے والی بالی ووڈ فلموں پر پابندی کا فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے جس کے بعد شاہ رخ خان کی فلم رئیس اور کرن جوہر کی فلم اے دل ہے مشکل پر پابندی کی تلوار لٹکنے لگی ہے جس میں پاکستانی اداکاروں فواد اور ماہرہ نے اداکاری کی ہے۔