All posts by admin

گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کرنیوالا گروہ پکڑا گیا, اہم انکشافات

لاہور (کرائم رپورٹر،اپنے سٹاف رپورٹر سے) ایف آئی اے کاوزات داخلہ سے فری ہینڈ ملنے کے بعد گردوں کی خرید فروخت کرنے والوں کے خلاف پہلا کامیاب چھاپہ، ای ایم ای سوسائیٹی میں واقع ایک گھر سے گردوں کی غیر قانونی خرید فروخت کر نےوالا گروہ گرفتار ، مزید تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیاگیا ۔بتایا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے ایف آئی اے کو فری ہینڈ دیا گیا کہ گردوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کی روک تھام اور گھناﺅنے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت ایکشن لیا جائے جس کے بعد ایف آئی اے کی ٹیم نے خفیہ انفارمیشن پر لاہور کے علاقہ ای ایم ای سوسائٹی میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مار کر 2گردے فروخت کر نے والے اور 2گردے خریدنے والے افراد کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا ۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق جب ٹیم موقع پر پہنچی تو ایک شخص کا گردہ پیٹ سے باہر نکال کر رکھا گیا تھا جوکہ خریدار کے پیٹ میں فٹ کرنا تھا جبکہ دوسرے فروخت کندہ کا ابھی گردہ باہر نکالنا تھا کہ ایف آئی اے نے چھاپہ مار کر ڈاکٹروں سمیت تمام افراد کو موقع سے گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے خلاف ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایک کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یاد رہے کہ ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ کے تحت ایف آئی اے کی یہ پہلی کاروائی ہے جس کے تحت ملزمان کو 10سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے ۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مزید کاروئیاں عمل میں لائی جائیں گی تاکہ اس ناسور کا ملک سے مکمل اور ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا جاسکے ۔ گرفتار ڈاکٹر التمش ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا جنرل سیکر ٹری ہے۔

پاکستان میں نیا سیاسی بحران شروع, 2018ءسے پہلے الیکشن

اسلام آباد، لندن (مانیٹرنگ ڈیسک، بی بی سی) ذرائع کے مطابق ڈان لیکس پر حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کرنے کے بعد پاک فوج نے معاملے کی خود تحقیقات کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کردیا۔ پاک فوج ڈان لیکس کی خود تحقیقات کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے کیونکہ پاک فوج کے خیال میں رپورٹ میں پوری حقیقت سامنے نہیں آئی اور فوج معاملے کی مکمل تحقیقات کروانا ضروری سمجھتی ہے جبکہ بی بی سی کے مطابق حکومت کی جانب سے سنیچر کو ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ کے حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن اور اس کے بعد فوج کی جانب سے اس کی تردید کے بارے میں ٹویٹ کے بعد تجزیہ نگاروں نے کہا کہ فوج کا بیان غیر معمولی اور نامناسب تھا۔پاکستان مسلم لیگ کے سابق رکن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کے بارے میں کہا کہ ‘یہ بہت ہی غیر معمولی بات ہے اور یہ اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان تناو¿ بڑھ جائے گا اور اس کا نتیجہ شاید پاناما پیپرز کی تفتیش میں نکلے گا جہاں وزیر اعظم کا فوج کے نمائندوں سے سامنا ہو سکتا ہے۔ ‘ایاز امیر نے مزید کہا کہ شاید سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے نواز حکومت کو بہت اختلافات تھے لیکن نئے سربراہ جنرل قمر باجوہ تو بالکل غیر سیاسی شخصیت ہیں اور حکومت سے فوج کے تناو¿ کی کوئی کیفیت نہیں تھی۔انھوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ ڈان لیکس کا معاملہ فوج کے لیے کتنا ضروری ہے لیکن حکومت نے اس معاملے کو اتنا ضروری نہیں سمجھا کہ جلد حل کیا جائے۔ایاز امیر نے کہا کہ ’لگتا یہی ہے کہ حالات مستقبل میں شاید مزید گھمبیر ہو جائیں۔ فوج کی طرف سے دیا جانے والا یہ بیان بہت غیر معمولی ہے اور مجھے نہیں یاد پڑتا کہ پہلے ایسا کوئی بیان دیا ہو۔ فوج نے حکومتیں الٹائیں ہیں لیکن ایسے بیانات نہیں دیے ہیں۔ دفاعی تجزیہ نگارنے بی بی سی بات کرتے ہوئے فوج کے رد عمل کے بارے میں کہا کہ ‘یہ نا مناسب تھا۔ آئی ایس پی آر کو ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی اور اس سے ایک بار پھر دونوں جانب تعلقات کشیدہ ہو جایئں گے۔‘آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نئے ہیں اور شاید اتنے تجربہ کار نہیں ہیں لیکن بات یہ ہے کہ اختلاف ضرور ہے دونوں فریقین کے درمیان اور فوج کی شکایت جائز ہے۔ فوج کی تنبیہ کرنا ٹھیک ہے لیکن ڈھکی چھپی بات نہیں کرنی چاہیے۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر معاملے کی تہہ میں جائیں تو جب یہ واقعہ ہوا تھا تو فوج نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔کی تنبیہ کرنی تھی تو کھل کر کرتے او ر وہ کوئی ایسی بات نہیں ہوتی لیکن یہ چھپ کر کام کرنا اچھی بات نہیں تھی اور کیونکہ ہمارے ملک میں رواج نہیں ہے کہ فوج کو اس طرح بولا جائے جس پر وہ برا مان گئے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت جو پاناما پیپرز کے مقدمے پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد پہلے ہی شدید دباو¿ اور سیاسی بحران کا شکار نظر آتی ہے اس کے لیے سنیچر کو وزیر اعظم کی طرف سے ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن سے سیاسی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔وزیر اعظم کےنوٹیفیکیشن، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا ٹویٹر پر جاری ہونے والا بیان اور پھر وزیر داخلہ کی وضاحتی پریس کانفرنس نے نہ صرف فوج اور حکومت کے درمیان ڈان لیکس کے معاملے پر شدید اختلافات کو طشت از بام کر دیا ہے بلکہ اس تاثر کو بھی تقویت بخشی کہ ڈان لیکس کے پیچھے اصل عناصر وہ نہیں جنہیں حکومت بلی چڑھا رہی ہے۔اس ساری صورت حال میں یہ بات اور واضح نظر آتی ہے کہ وزیر اعظم ہاو¿س میں ملکی سکیورٹی سے متعلق انتہائی اہم اجلاس کی کارروائی کی خبر ڈان اخبار کے رپورٹ سرل المائڈہ کو لیک کرنے والے عناصر اتنے اہم ہیں جن کو بچانے کے لیے حکومت کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔موجودہ صورت حال جس میں حکومت پاناما مقدمے کے فیصلے کے بعد شدید دباو¿ میں ہے اور وزیر اعظم سے مستفعی ہونے کے مطالبوں کا شور شدت اختیار کرتا جا رہا ہے حکومت ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ پر پوری طرح عملدرآمد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت اپنے پانچ سالہ دور کے آخری سال میں کوئی ایسا کام کرنا چاہتی ہے جسے وہ آئندہ انتخابات میں عوام کے سامنے اپنے آپ کو ایک سیاسی شہید اور مظلوم بن کر پیش کر سکے۔ اس کے علاوہ تجزیہ نگاروں نے پیشین گوئی کی ہے کہ ڈان لیکس کی رپورٹ آنے کے بعد حکومت، پاک فوج میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور 2018ءسے پہلے الیکشن ہوسکتے ہیں کیونکہ محاذ آرائی کا بگل بج چکا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی کیمپ میں یہ مشورے کیے جارہے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں میں سے کچھ کو ساتھ ملا کر آنے والے سیاسی طوفان کا مقابلہ کیا جائے تاہم حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کیا حکومت سرنڈر کرے یا بات بڑھے گی؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

عوام پر پٹرول بم گرانے کی تیاریاں, نئی قیمتیں سامنے آگئیں

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم مئی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی سمری وزارت خزانہ کو ارسال کر دی جس میں مٹی کے تیل کی قیمت میں 15روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے فی لٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزارت خزانہ آج 30اپریل کو وزیراعظم کی منظوری کے بعد نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق اوگرا نے مٹی کے تیل کی قیمت میں 15 روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے اضافے کی سمری بھجوا دی۔ پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے کمی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ وزارت خزانہ 30 اپریل کو وزیراعظم کی منظوری کے بعد نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔

ڈان لیکس پر دونوں اطراف سے غلط طریقہ اختیار کیا گیا, دیکھئے اہم خبر

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) چینل فائیو سے گفتگو کرتے ہوئے لندن سے تجزیہ کار شمع جونیجو نے کہا ہے کہ نیوز لیکس نوٹی فکیشن پر دونوں طرف سے غلط طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے جو پاکستان کو ایک بری صورتحال کی طرف لے جائے گا جبکہ موجود صورتحال میں ہم کسی قسم کے انارکی برداشت نہیں کرسکتے، مخالفت برائے مخالفت کی جارہی ہے۔وزیر داخلہ نے بھی کہا کہ یہ رپورٹ وزرات داخلہ جاری کرنا تھی، پرنسپل سیکرٹری نے کیسے کردی، اسحاق ڈار بڑے سیاستدان ہیں، معاملے کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں، انکایہ کہنا کہ نوٹی فکیشن کا ایک حصہ ہے ابھی دوسرا حصہ آنا ہے، پھر کہنا یہ کہ پرویز رشید بھی ذمہ دار تھے لیکن انہیں بتا چکے ہیں اس لئے نوٹی فکیشن میں انکا نام نہیں تو ہر جگہ غلطیاں ہورہی ہیں، وزیراعظم پانامہ کیس کو تو ہینڈل کرگئے، لیکن جس طرح انہوںنے نیوز لیکس رپورٹ کو میس ہینڈل کیا ہے وہ سوتے شیر کو جگانے کے مترادف ہے، وزیر داخلہ کے بیانات ثابت کرتے ہیں کہ حکومت ایک پیج پر نہیں، یہ معاملہ جلدی انتخابات کے بجائے عدالت میں جاتا دکھائی دے رہاہے، حکومت بری صورتحال سے دوچار ہے، پہلے ہی پانامہ کیوجہ سے دباو¿ میں ہے، ایسے میں خود اپنے پاو¿ں پر کلہاڑی مارنے کی کیا ضرورت تھی، جب وہ خود ہی ایک پیج پر نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت و آرمی دونوں پھنس چکے ہیں، نکلنے کا کوئی قانونی راستہ نہیں ہے،6 ہزار ٹویٹس ہوچکے ہیں جو اب واپس نہیں ہوسکتے، وزیراعظم کو آرمی چیف سے ملاقات کرکے مشاورت کرنی چاہئے، انہیں تھوڑا جھکنا پڑے گا، اگر وہ فوج ودیگر اداروں کے سربراہان کو منانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو بہتری آسکتی ہے لیکن لگتا نہیں کہ یہ معاملہ اب بہتری کی طرف جائے گا، اب یہ خراب ہی ہونے جارہا ہے، آرمی جس شخص کو ذمہ دار دیکھنا چاہتی ہے، وزیراعظم ہاو¿س اسے ذمہ دار قرار نہیں دے گا، جس سے تصادم بڑھے گا۔

”ڈان لیکس کی رپورٹ نے مسائل پیدا کردئیے، فوج کی طرف سے مسترد کرنا تشویشناک “ سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ سے گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف ایڈیٹر خبریں گروپ، سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیاشاہد نے چینل فائیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا ڈان لیکس پر حکومتی نوٹیفکیشن کو مسترد کرنا بڑی سنجیدہ بات ہے۔ اس معاملے میں سب سے بڑی سٹیک ہولڈر فوج تھی اور چند روز پہلے وزیراعظم نواز شریف نے خود کہا تھا کہ ڈان لیکس کے معاملے میں تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے کیونکہ اس سے ایک دن پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا تھا کہ کسی قسم کی کوئی مفاہمت یا مشاورت نہیں کی گئی معلوم نہیں کہ کمیشن کیا رپورٹ دے رہا ہے۔ پھر یکطرفہ طور پر کمیشن کی ایسی رپورٹ سامنے آئی جس کو فوج نے مسترد کردیا۔ جس کے بعد بڑی سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ملک، حکومت اور ریاست کے حق میں یہ بات نہیں ہے۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ ازخود اس معاملے کو دیکھیں، آرمی چیف اور ذمہ داران سے مشاورت کر کے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اس قسم کی رپورٹ جو بظاہر بے جان نظر آئے، فوج مطمئن نہ ہو، اس سے معاملہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھے گا۔ اسحاق ڈار نے جو کہا ہے درست کہا ہوگا لیکن میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی، میرے خیال میں جیسی بھی رپورٹ ہے اس کا متن اب تک سامنے آجانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ رپورٹ وزیراعظم ہاﺅس نے نہیں وزارت داخلہ نے جاری کرنا تھی، پھر ان کا اس بات پر افسوس کا اظہارکرنا کہ وزیراعظم ہاﺅس سے جاری بیان پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کس طرح اتنے سخت ردعمل کا اظہار کر دیا۔ رپورٹ کس کو جاری کرنا تھی اور کس کو نہیں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہیے بلکہ اس کا متن دیکھنا چاہیے، پھر رپورٹ کے ابھی دوسرے حصے کے آنے کا کہنا مسئلے کو مزید الجھانا ہے۔ حکومت کو کس نے کہا تھا کہ آدھی رپورٹ جاری کر دو، فوج اس کو مسترد کر دے۔ اب خود کو بچانے کےلئے یہ کہنا کہ دوسرا حصہ ابھی آنا ہے، اس قسم کے طور طریقے نہیں آزمانا چاہئیں۔ جمہوری حکومت کو حساس و نازک صورتحال میں پاک فوج کو مکمل طور پر اعتماد میں لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طارق فاطمی کے بارے میں ایک دن پہلے خود اسحاق ڈار نے کہا کہ انہیں صرف تبدیل کیا کوئی سزا نہیں دی گئی پھر بیان آیا کہ ہٹا دیا گیا، راﺅ تحسین کے بارے میں پہلے کہا گیا کہ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے لیکن اب لگتا ہے کہ حکومت نے دباﺅ میں آ کر دونوں کو فارغ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ اس قسم کی کوششوں سے معاملہ مزید الجھے گا۔ فوج سے مشاورت کر لینی چاہیے۔ یہ معاملہ کورکمانڈر کانفرنس میں زیربحث آیا تھا اور طے پایا تھا کہ حکومت سے کہا جائے کہ فوری سراغ لگا کر ہمیں مطلع کرے اور ذمہ داروں کو سزائیں دی جائیں۔ اب آرمی چیف تبدیل ہو چکے ہیں لیکن میں نہیں سمجھتا کہ فوج کی اجتماعی سوچ میں کچھ زیادہ بڑا فرق پڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان سے دلچسپی و محبت رکھتا ہوں۔ حکومت و فوج کے درمیان کسی قسم کی غلط فہمی، دوری یا مزاحمتی رویے کے بجائے سب کو ملکر چلنا چاہیے اور سب سے اہم ادارے کو بھی حکومت اعتماد میں لیکر چلے۔ وزیر داخلہ کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں تضاد موجود ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن اس تضاد کو مزید ہوا دے، وزیراعظم و وزیرداخلہ کے درمیان جو غلط فہمی پیدا ہوتی نظر آتی ہے اسے مزید بڑھانے کی کوشش کرے، میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔ ملکی مفاد میں سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم چیف ایگزیکٹو جبکہ وزیرداخلہ انہی کی ٹیم کا حصہ ہیں، داخلی طور پر ان دونوں اداروں میں بھی مکمل مفاہمت ہونی چاہیے کہ ملکر آگے کیسے چلنا ہے؟ اگر اسحاق ڈار نے یہ کہہ دیا کہ رپورٹ کا دوسرا حصہ ابھی آنا ہے تو یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی، وزیرداخلہ نے اپنی پریس کانفرنس میں کیوں نہیں بتایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی تضاد ضرور ہے۔ اس تضاد کو اور فوج کے ساتھ پیدا ہونے والے تضاد کو ختم کرنا چاہیے۔ ایسے فیصلے کریں جس سے سب اداروں کو ملکر آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ وزیراعظم ہاﺅس اور کسی وزارت کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہونا چاہیے۔لوگ سوال کرتے ہیں کہ فوج کے ادارے آئی ا یس آئی اور ایم آئی کے نمائندے کمیٹی میں رہے یا اختلافی نوٹے لکھے۔ انہوں نے کہا حیرت ہے کہ کمیشن کے سربراہ ریٹائرڈ جج عامر رضا نے رپورٹ میں کہا کہ اے پی این ایس ضابطہ اخلاق بنائے۔ کیا سابق جج اتنے لاعلم ہیں کہ انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ سات سال قبل اخباری تنظیموں نے پرویز مشرف کی وزارت اطلاعات سے مل کر ضابطہ اخلاق فائنل کر دیا تھا۔ یہ ضابطہ اخلاق اس وقت بھی نافذ العمل ہے اور حکومتی ادارہ پریس کونسل آف پاکستان اس کی روشنی میں لوگوں کی شکایات پر اخباروں کو نوٹس کر رہا ہے۔ میں خود اس کمیٹی کا رکن تھا پرویز مشرف دور میں بنی تھی 1½ سال میں سات مختلف اجلاسوں میں فائنل ہوا تھا۔

ثنا فیملی کے ہمراہ چھٹیاں منانے ملائیشیا پہنچ گئیں

لاہور(کلچرل رپورٹر)اداکارہ ثنا اپنی فیملی کے ہمراہ چھٹیاں منانے ملائیشیا پہنچ گئی ہیں جہاں وہ دوہفتے مقیم رہیں گی۔اس بارے میں ثنا نے کہا کہ میں ساراسال کام کرتی ہوں جس کے بعد سیروتفریح کے لئے کسی ملک میں ضرورجاتی ہوں کیونکہ اس طرح فیملی کے ساتھ اچھاوقت گزارنے کا موقع ملتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں وطن واپسی پر اپنے زیرتکمیل پراجیکٹ مکمل کراﺅں گی جن میں فلمیں اور ڈرامے شامل ہیں۔ انہوں نے مزیدبتایا کہ نجی ٹی وی سے آن ایئر ڈائریکٹراحسن طالش کی سیریل”الف اللہ اور انسان“میں ناظرین مجھے ایک نئے کردارمیں دیکھ سکیں گے۔

بینش چوہان، جویریہ عباسی سیریل میں اکٹھے کام کرینگی

لاہور(کلچرل رپورٹر)اداکارہ بینش چوہان اور جویریہ عباسی نئی سیریل میں ایک ساتھ کام کریں گی۔ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں اداکاراﺅں کو کراچی کے ایک پروڈکشن ہاﺅس کی نئی ڈرامہ سیریل میں کاسٹ کیا گیا ہے جس کی ریکارڈنگ شروع ہوگئی ہیں تاہم اس کی تمام تفصیلات پوشیدہ رکھی جارہی ہیں۔ ڈرامے میں بہت سے نئے فنکاروں سینئرزبھی کام کررہے ہیں۔اس بارے میں بینش چوہان نے بتایا کہ ہم کافی عرصے بعد کسی ڈرامے میں اکٹھے کام کررہی ہیں۔ انہوں نے مزیدبتایا کہ میں جلد ہی ذاتی سیریل شروع کرنے جارہی ہوں۔

7برس کی عمر میںبطور چائلڈ سٹار اداکاری شروع کی

لاہور(کلچرل رپورٹر) چائلڈ سٹاررداعاصم نئے پراجیکٹ میں مصروف ہوگئی ہیں۔ انہوں نے”خبریں“سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ میں نے 7سال کی عمر سے سکول کے پروگرامز میں حصہ لینے سے اداکاری کا آغاز کیا اور کیمرے کے سامنے پہلی مرتبہ ایک ٹیلی فلم ©”دُعا” میں مرکزی کردار سے کیا جس میں ایک ایسی یتیم بچی کا کردار ادا کیا جس کو باپ کی کمی احساس کمتری کا شکار کر دیتی ہے۔ بچوں کے سٹیج ڈرامہ عینک والا جن میں پری کے کردار میں تقریباً ساڑھے 4سال تک لوگوں کو متوجہ رکھا۔ٹی وی پر اداکاری کا آغاز کرائم سیریز سے کیا اور مختلف ٹی وی چینلز کے متعدد ڈراموں میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر کام کیا۔پی ٹی وی پرانہوں نے”روشن راستے“اور ”منزل منزل“میں کام کرچکی ہیں۔آنے والے پراجیکٹس جس کی ریکارڈنگز ہو چکی ہیں۔ ڈرامہ کی ریکارڈنگ کے دوران بارہا ڈائریکٹر صاحب اور باقی افراد کی طرف سے مجھے سراہا کیا اوسینیئر اداکاروں کی طرف سے میری حوصلی افزائی کی گئی۔ یہ کردار بھی یقینا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔فیچر فلم ”سایہ خُدا ئے ذوالجلال“ میں ایک برگیڈیئر کی بیٹی کا کردار ادا کیا تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اداکاری کے ساتھ ساتھ میں تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہوں۔