All posts by admin

غیر قانونی اثاثے, زرداری بڑی مشکل میں پھنس گئے, اہم حکم آگیا

راولپنڈی(بیورورپورٹ) راولپنڈی کی احتساب عدالت نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف زیر التوا آخری کرپشن ریفرنس کی روزانہ سماعت کا فیصلہ کرلیا۔احتساب عدالت سابق صدر کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر مبینہ طور پر پاکستان اور بیرون ملک غیر قانونی اثاثے رکھنے کے حوالے سے ریفرنس کی سماعت کرے گی۔یہ ریفرنس پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور ان کی مرحوم اہلیہ بے نظیر بھٹو پر غیر قانونی ذرائع سے جائیداد بنانے کے الزام پر دائر کیا گیا تھا۔آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف یہ ریفرنس 2001 میں احتساب عدالت میں دائر کیا گیا تھا، جو بعد ازاں اس وقت کے صدر جنرل(ر)پرویز مشرف کی جانب سے جاری کردہ قومی مفاہمتی آرڈیننس(این آر او)کے تحت 2007 میں بند کردیا گیا۔دسمبر 2009 میں سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دے دیا اور اس آرڈیننس کے تحت بند کیے جانے والے تمام کیسز کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا۔آصف علی زرداری اس وقت صدر پاکستان کے عہدے پر فائز تھے جس کی وجہ سے انہیں آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنی حاصل تھا۔قومی احتساب بیورونے آصف زرداری کے خلاف ریفرنس کو اپریل 2015 میں دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد سے اس ریفرنس پر کارروائی سست روی کا شکار تھی۔تاہم وکیل دفاع اور وکیل استغاثہ دونوں ہی اس کیس کی پوری قوت کے ساتھ مزید پیروی کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔اس کیس میں رواں سال اب تک کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی کیونکہ آصف علی زرداری کے وکیل اپنی بیماری کی وجہ سے کیس کی پیروی کرنے سے قاصر تھے۔پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کے بعد آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بھی اپنی حاضری کو یقینی بنایا اور احتساب عدالت نے نیب کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر سابق صدر کے خلاف ریفرنس کی سماعت کا فیصلہ کیا۔رواں سال کے آغاز میں یہ بات سامنے آئی کی کرپشن ریفرنس کا ایک اہم گواہ پر اسرار طور پر غائب ہوگیا تھا، بعد ازاں بیرسٹر جواد مرزا نامی گواہ کو راولپنڈی احتساب عدالت سے اشتہاری ملزم قرار دے دیا گیا تھا۔بیرسٹر جواد مرزا 2002 میں نیب کے فنانشل کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے قانونی مشیر تھے جنہوں نے نیب میں دستاویزی شواہد تفتیشی افسر کو فراہم کیے تھے جن میں زرداری خاندان کے پیسوں کی لین دین، بینک اکانٹس اور آف شور کمپنیوں کی معلومات موجود تھیں۔نیب کے وکیل طاہر ایوب نے بتایا کہ یہ کیس اپنے اختتامی مراحل میں ہے اور عدالت نے اس کی روزانہ کی بنیاد پر پیروی کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کیس کی کارروائی آئندہ چند دنوں میں مکمل ہو جائے گی اور جلد ہی عدالت اس کیس کا فیصلہ سنا دے گی۔واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے 6 مقدمات دائر تھے تاہم اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے کے بعد احتساب عدالت میں ان کیسز کے حوالے سے کارروائی ہوئی جس میں سے 5 کیسز میں انہیں بری کردیا گیا تھا۔

سیاسی ،جمہوری بے یقینی کا سفر ملک کیلئے سوالیہ نشان, دیکھئے اہم خبر

اسلام آباد(صباح نیوز)وزیر داخلہ چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ سیاسی اور جمہوری بے یقینی کا سفر پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، ہم ٹیک آف کی پوزیشن پر کھڑے ہیں ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے روشنی کی طرف جانا ہے یا اندھیرے کی طرف جانا ہے 70 سال کے اندر ایک بھی جمہوری وزیراعظم اپنی پانچ سالہ مدت پوری نہیں کر سکا۔ وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے اندر کوئی خرابی ہو گی مگر وزیراعظم محمد خان جونیجو کےساتھ کیا خرابی تھی وہ تو پاکستان کے معصوم ترین وزیراعظم تھے۔ ظفر اﷲ جمالی کو خود پرویز مشرف نے وزیراعظم لگایا تھا وہ کیوں پانچ سال پورے نہیں کر سکے ۔دو ،دو سال بعد حکومتیں بدل کر 90 کے عشرے کو سیاسی عدم استحکام کی نذر کر دیا گیا ہم پاکستان کو جیو اکنامکس کے راستہ پر ڈال کر ان بلندیوں کوچھو سکتے ہیں جو ملائیشیائ، کوریا، چین اور دوسرے ممالک نے حاصل کی ہیں ہم نے اپنی سوچ کا محور معیشت کو بنانا ہے۔ان خیالات کا اظہار احسن اقبال نے پاکستان ڈیویلپمنٹ سمٹ اور ایکسپو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا انعقاد پلاننگ کمیشن کی جانب سے کیا گیا تھا احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کی حالت ایسی ہے جیسے گلاس آدھا بھرا ہوا ہے اور آدھا خالی ہے یہ ہمارے اوپر منحصر ہے کہ ہم گلاس آدھا بھرا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں یا آدھا خالی دیکھنا چاہتے ہیں کیا ہم اپنی کم ہمتی کی وجہ سے آدھے خالی گلاس کو آدھا بھر ے ہوئے گلاس پر غالب آنے دیں گے یا اپنے حوصلے اور کوشش سے آدھے بھرے ہوئے گلاس کو باقی خالی گلاس کو بھرنے میں تبدیل کر دیں گے ان کا کہنا تھا کہ 70 سالوں میں بہت سے ملک ہم سے پیچھے تھے وہ ہم سے آگے نکل گئے 1947ءمیں پاکستان کا معرض وجود میں آنا بھی ایک معجزہ تھا 23 مارچ 1940ءکو ہمارے آباﺅ اجداد نے قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ خواب دیکھا کہ ہم ایک آزاد وطن حاصل کریں گے تو ہمارے پاس کوئی سازو سامان نہیں تھا مسلمانوں کے پاس دولت نہیں تھی وہ جنوبی ایشیاءکے اندر معاشی طور پر پسے ہوئے تھے ان کے پاس کوئی سیاسی طاقت بھی نہیں تھی کانگریس پارٹی حکومتیں بن چکی تھی اور وہ غالب تھی مختلف صوبوں اور سیاسی ایوانوں کے اندر اس کا غلبہ تھا مسلم لیگ کے پاس ایسی کوئی سیاسی یا معاشی طاقت نہیں تھی جس کے بل بوتے پر وہ پاکستان کو بنانے کے خواب میں قوت کے ساتھ کھڑی ہوتی لیکن ہمارے ان بزرگوں کا جو عزم اور یقین تھا جو مثبت سوچ تھی کہ ہم یہ کر سکتے ہیں اس نے سات سالوں میں ایک ایسے خواب کو جو ناممکنات میں نظر آتا تھا اسے حقیقت میں ڈال دیا جب پاکستان بنا تو بہت سے پنڈت اور افلاطون یہ کہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ تین اور تین نہیں تو پانچ سال کی مار ہے پانچ سال میں یہ پکے ہوئے پھل کی طرح دوبارہ بھارت کی جھولی میں گر جائے گا چونکہ پاکستانی ریاست کوکامیابی کے جواسباب درکار ہیں وہ اس کے پاس نہیں ہیں نہ اس کے پاس صنعت ہے نہ زراعت ہے نہ تعلیم ہے نہ انتظامی ڈھانچے ہیں جن کے ساتھ ایک نئی مملکت کو کامیاب کیا جا سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو چیزوں کا تسلسل ملا اور پاکستان نے نیا آغاز کرنا تھا احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حصہ کے وسائل ہم سے چھین لیے گئے اور پاکستان کو نہیں دیئے گئے لیکن پاکستانی قوم نے مستقل مزاجی اور حوصلہ سے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ آج وہ پاکستان جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ تین یا پانچ سال کی مار ہے آج اپنی 70 ویں یوم آزادی منا رہا ہے اور قیامت تک اپنی آزادی مناتا رہے گا اور وہ ایک حقیقت بن چکا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس نشیب و فراز میں بہت سے ممالک جو ہم سے بعد آزاد ہوئے ہم سے آگے نکل گئے یہ یقینا ہماری بڑی ناکامی ہے کہ اس ترقی کی قیادت کو برقرار نہیں رکھ سکے ۔

راحیل شریف کی پاکستان آمد, اہم معاملہ سامنے آگیا

لاہور(وقائع نگار) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سابق چیف آف آرمی سٹاف اور اسلامی اتحادی افواج کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف گذشتہ روز خصوصی طیارے سے صوبائی دارالحکومت پہنچے جہاں وہ کچھ وقت قیام کرینگے، ذرائع نے بتایا کہ جنرل (ر) راحیل شریف نجی کام کے سلسلے میں پاکستان آئے ہیں جس کے بعد وہ ایک بار پھر سعودی عرب واپس چلے جائیں گے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس, عوام کیلئے بڑی خوشخبری کا اعلان

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے ملاقات کی جس میں پاک امریکہ تعلقات سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جمعرات کے روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے ملاقات کی،ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات سمیت افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات پر بھی بات چیت کی گئی۔ملاقات میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان امریکہ کو اہم شراکت دار تصور کرتا ہے اور ان کے ساتھ موجودہ تعلقات کو مزےد مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔اس موقع پر امریکی سفیر نے وزیراعظم کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر شاہد خاقان عباسی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزےد فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ارکان قومی اسمبلی عوامی مسائل کے حل کے لئے کسی بھی وقت رابطہ کرسکتے ہیں، حکومت جنوبی پنجاب کی ترقی کے لئے پرعزم ہے‘ جنوبی پنجاب میں بجلی ‘ گیس اور دیگر منصوبوں کے لےءفنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جمعرات کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے وفاقی وزراءاور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ ارکان اسمبلی نے وزیراعظم کو اپنے علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر بریف کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ارکان اسمبلی عوامی مسائل حل کرنے کے لئے تندہی سے کام کریں۔ حکومت جنوبی پنجاب کی ترقی کے لئے پرعزم ہے۔ جنوبی پنجاب میں بجلی ‘ گیس اور دیگر منصوبوں کے لئے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی ذاتی طور پر کروں گا۔ ارکان قومی اسمبلی عوامی مسائل کے حل کے لئے کسی بھی وقت رابطہ کرسکتے ہیں۔ ملاقات کرنے والوں میں ریاض پیرزادہ‘ ارشد خان لغاری‘ مخدوم سید علی گیلانی‘ محمد اصغر‘ طاہر بشیر چیمہ‘ فیاض الدین‘ مخدوم خسرو بختیار‘ میاں امتیاز‘ مائزہ حمید‘ صبیحہ نذیرشامل ہیں جبکہ پارلیمانی امور کے وزیر شیخ آفتاب نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت نے بلوچستان میں امن و امان کی بہتری پر توجہ دی ہے جس کے ثمرات تیز تر ترقی کی شکل میں ملے ہیںوہ جمعرات کو وزیراعلیٰ بلوچستان سردار ثناءاللہ زہری سے گفتگو کررہے تھے جنہوں نے ان سے یہاں ملاقات کی۔ وزیرا عظم نے کہاکہ حکومت نے صوبے میں امن و امان کی بہتری پر توجہ دی ہے جس کے ثمرات تیز تر ترقی کی شکل میں ملے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کی ترقی ان کے دل کے بہت قریب ہے اور بلوچستان کو دیگر وفاقی اکائیوں کے برابر لانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ ترقیاتی منصوبوں اور امن وامان کی صورتحال کے جائزہ کے لئے آئندہ چند روز میں بلوچستان کا دورہ کریں گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

نواز شریف کیوں نااہل ہوئے؟, آصف زارداری نے راز سے پردہ اُٹھا دیا

لاہور (سیاسی رپورٹر) سابق صدر آصف علی زرداری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے 2 وزراءاعظم گنوائے ایک کو پھانسی دوسرے کی نااہلی ہوئی مگر ہم نے نظام اور جمہوریت کو چلنے دیا۔ اگر میاں صاحب کی نااہلی ہو گئی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ نظام اور جمہوریت چلتی رہنی چاہئے۔ میاں صاحب کی حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی وہ اپنا کیس ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ہار گئے۔ منی ٹریل نہ دینے پر نااہل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اگر ملنا چاہیں گے تو ضرور ملوں گا۔ وہ چند ماہ پہلے مجھ سے لندن میں ملے تھے۔ وہ میاں صاحب کی حکومت کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کی بات کر رہے تھے میں نے ان کو کہا کہ آپ گارنٹی دیتے ہیں تو وہ ہنس پڑے اب بھی وہ اگر ملنا چاہیں تو میں حاضر ہوں ان کو اچھا سا کھانا کھلا کر واپس بھیجوں گا۔ انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے میاں صاحب اپنی تقاریر خود سن لیں پھر فیصلہ کریں کہ وہ درست کر رہے تھے یا نہیں۔ یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے وقت مجھے ذاتی طور پر شدید دکھ ہوا تھا لیکن میں نے نہ تو کوئی احتجاج کیا نہ ریلی نکالی نہ مظاہرے کئے ایک نیا وزیراعظم منتخب کرا دیا۔ تا کہ ملک میں جمہوریت چلتی رہے اور یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ کسی کے ہونے نہ ہونے سے نظام لڑکھڑا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کو یہ بھی سوچنا ہو گا کہ ان کے دور حکومت میں ان کا انداز ایک شہنشاہ کی حکومت کرنے کا رہا۔ جو جمہوری نظام میں نہیں چل سکتا۔ گزشتہ 4 سال کے دوران وہ پارلیمنٹ میں کم ہی نظر آئے جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ جمہوری انداز اور فکر سے ناواقف ہیں اور وہ اپنے آپ کو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے اس کا مطلب ہے کہ یہ جمہوریت نہیں بادشاہت ہوئی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ آرٹیکل 63,62 کے حوالے سے پیپلزپارٹی کا میاں نوازشریف سے کوئی تعاون کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر تعاون ہوا بھی تو نوازشریف کو فائدہ نہیں ہو گا۔ قبل ازیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اورسابق صدرآصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب اور ان کے خاندان کو مستقبل کی سیاست میں نہیں دیکھ رہا، حکومت اوراپوزیشن میاں صاحب کی ہے یہ ایک نیا مذاق ہے،میری دوستی جمہوریت کےساتھ تھی نوازشریف کےساتھ نہیں، ہم نے پچھلی بار میاں صاحب کا نہیں پارلیمنٹ کا ساتھ دیا اور جمہوریت بچائی تھی، سیاست میں کوئی بات آخری نہیں ہوتی،یہ کہاجائے کوئی سیاسی جماعت ختم ہوجائے گی ایسا نہیں ہوسکتا، تعلقات وہ ہوتے ہیں جس میں رابطے برقرار رہیں، جب آپ چار سال تک بھائی کو فون نہ کریں تو وہ بھی فون نہیں اٹھاتا، عمران خان صاحب فل ٹاس پر کھیل رہے ہیں، نو بال پر آئیں گے تو دیکھیں گے، این اے120شروعات ہے ۔لاہور میں اپنے صاحبزادے اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ کافی دن ہوئے میڈیاسے ملاقات نہیں ہوئی،جب سے لاہور آیا ہوں گہما گہمی بڑھ گئی ہے،کچھ لوگوں کو غلط فہمی تھی کہ ہم نے پچھلی بار میاں صاحب کا ساتھ د یاتھا ہم نے حکومت کا ساتھ کبھی نہیں دیا ہم نے پارلیمنٹ کا ساتھ دیا تھا اور جمہوریت بچائی تھی اور اب جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، اس سے پہلے ہمارے وزیراعظم کو نا اہل کیا گیا اور ہم نے دوسرا وزیراعظم بنالیا، جلاوطنی کے دور میں ہمارے تعلقات تھے اور اس کی تردید نہیں کرتا لیکن اگر بھائی سے چارسال تعلقات نہ ہوں، اس کے بعد فون کریں تو وہ بھی فون نہیں اٹھائے گا، نواز شریف نے اب اپنے الفاظ واپس لے لیے ہیں تاہم اب وقت گزر چکا ہے ۔انہوں نے کہاکہ میری دوستی جمہوریت کےساتھ تھی میاں صاحب کےساتھ نہیں، کل بھی جمہوریت کے ساتھ تھے، آج بھی جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ، جمہوریت کےساتھ ہیں، جمہوریت کوپروان چڑھتادیکھناچاہتے ہیں، جمہوریت کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں اسی میں پاکستان کا مستقبل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں کوئی بات آخری نہیں ہوتی،یہ کہاجائے کوئی سیاسی جماعت ختم ہوجائے گی ایسا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب اپنی چار سال کی حکومت میں سیاسی جماعت کو ساتھ لے کر نہیں چلے، میرے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب سے کبھی کوئی ذاتی فائدہ نہیں لیااور نہ کبھی لینے کاارادہ ہے،ابھی ریفرنسز آئے ہیں، ریفرنس جائزہ نہیں لیا، قانونی ماہرین کی رائے سے میڈیا کو آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلقات وہ ہوتے ہیں جس میں رابطے برقرار رہیں، جب آپ چار سال تک بھائی کو فون نہ کریں تو وہ بھی فون نہیں اٹھاتا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب فل ٹاس پر کھیل رہے ہیں، نو بال پر آئیں گے تو دیکھیں گے، میری ان سے ملاقات ہوئی نہ ہو سکتی ہے، این اے120شروعات ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ پچھلی دفعہ جب الیکشن ہوئے تھے تومیں صدرتھااورکسی نے انتخابات کاخیال نہیں کیا، اب پیپلزپارٹی کی قیادت لاہور میں ہے تو فرق پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب اور ان کے خاندان کو مستقبل میں سیاست میں نہیں دیکھ رہا، بلاول کی والدہ نے 22سال کی عمرمیں سیاست شروع کی تھی، خان صاحب غیرسیاسی آدمی ہیں انہیں کیا سمجھاوں۔ شریک چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ میرے چیئرمین نے کہاہے کہ عمران خان اورنوازشریف ایک سکے کے دورخ ہیں،جو میرے چیئرمین نے کہہ دیا اورمیں نے کہہ دیاایک ہی بات ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ ہر فیصلہ پارٹی مشاورت سے کرتے ہیں، ہماری سوچ نہیں کہ کسی سیاسی جماعت کےساتھ مل کرچلیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ہمیں بھٹوازم اوراپنی سوچ کے تحت سیاست کرنی ہے، حکومت اوراپوزیشن میاں صاحب کی ہے یہ ایک نیا مذاق ہے،20ہزارسیکیورٹی اہلکارنوازشریف کی سیکیورٹی پرتعینات تھے۔اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ شریف خاندان اگر پیپلز پارٹی کی طرف سے ریلیف چاہتا ہے تو وہ نہیں مل سکتا، نواز شریف اور ان کے خاندان کا ساتھ نہیں دیں گے، قوم جانتی ہے نواز شریف معصوم نہیں مجرم ہے، عدالت نے انہیں نااہل کر کے نکالا ہے،بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ہم جمہوریت کےساتھ ہیں، کل بھی تھے اور کل بھی ہوں گے، حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔انہوں نے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ احتساب کا قانون پیپلزپارٹی کی قیادت کے لیے بنایا گیا ہے،احتساب کا قانون سب پر لاگو ہونا چاہیے۔بلاول بھٹو نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان میں واضح ہے کہ کوئی کالعدم تنظیم اپنانام بدل کرکام نہیں کرسکتی۔چیئرمین پی پی پی نے عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی گلی گلی میں جاوں گا، بھٹو اور بینظیربھٹو کے پاکستان کا پیغام ہر جگہ پہنچاوں گا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کا ساتھ دیں گے شریف خاندان کو پی پی سے کسی سے ریلیف کی توقع ہے تو یہ ممکن نہیں پیپلزپارٹی کی نظریاتی سیاست کررہی ہے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں سرگرمیاں کررہا ہوں ملک میں صرف دائیں بازو کی سیاست رہی تو برا ہوگا۔ اس بات پر متفق ہیں کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ ہمیشہ جمہوریت کے ساتھ تھے اور رہیں گے ایسالگتا ہے کہ احتساب کا قانون صرف پیپلزپارٹی کیلئے ہے۔

سابق وزیراعظم ”نیب“ کے سامنے پیش ہونگے یا نہیں؟, بڑی خبر آگئی

لاہور (اے این این، مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز اور حسن نواز بیرون ملک ہونے کے باعث(آج) جمعہ کو نیب کے روبرو پیش نہیں ہوں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق نیب نے نواز شریف، حسین نواز اور حسن نواز کو 18 اگست کو طلبی کے نوٹسز جاری کیے تھے تاہم بیرون ملک ہونے کے باعث حسن اور حسین نواز نیب کے روبرو پیش نہیں ہوں گے، اگر وہ پاکستان آ گئے تو شایدنیب کے روبرو پیش ہو جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے بھی ابھی تک نیب کے روبرو پیش ہونے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے وہ قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد نیب میں پیش ہونے کا فیصلہ کریں گے۔ نواز شریف آج نیب کے سامنے پیش نہیں ہونگے، لیگی ترجمان نے یوٹرن لیتے ہوئے نیا بیان داغ دیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق لیگی ترجمان نیب طلبی کا نوٹس ملنے سے ہی انکاری ہو گئے جبکہ پہلے بیان میں کہا تھا کہ نوٹس مل گیا ہے۔ ترجمان ڈاکٹر آصف کرمانی نے نئے بیان میں کہا ہے کہ نواز شریف نیب کے سامنے پیش نہیں ہونگے۔ سینئر صحافی نے اس رویے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اب اس معاملہ کو ستمبر تک لٹکانا چاہتے ہیں جب چیئرمین نیب ریٹائر ہو جائیں اور نیب غیرفعال ہو جائے۔

بلاول کی جوشیلی تقاریر، لگتا ہے دوسرا بھٹو جنم لے رہا ہے ضیا شاہد کی بات پر زرداری کا شکریہ

لاہور (سیا سی رپورٹر) کو چیئرمین پیپلزپارٹی آصف زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ایڈیٹروں سینئر صحافیوں سے ملاقات میں چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد نے آصف زرداری سے کہا کہ بلاول بھٹو کی جھلک نظر آرہی ہے میں طویل عرصہ سے تقاریر سن رہا ہوں مگر بلاول کا لب ولہجہ اور جوش بھٹو سے بہت ملتا جلتا ہے۔ لگتا ہے دوسرا بھٹو پیدا ہورہا ہے۔ اس بات پر آصف زرداری مسکرائے اور ضیا شاہد کا گرمجوشی سے شکریہ ادا کیا۔

نواز ،فضل الرحمن ملاقات, اندرونی کہانی منظر عام پرآگئی

لاہور(آئی اےن پی) سابق وزےر اعظم مےاں نوازشر ےف سے جے ےو آئی (ف) کے سر براہ مولانا فضل الر حمن کی ملاقات ‘متوقع قانون سازی ‘انتخابی اصلاحات کے بل اور پاکستان کی سےاسی اور ملکی صورتحال پر بات چےت کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق جمعرات کے روز مےاں نوازشر ےف سے ملاقات کےلئے مولانا فضل الر حمن جاتی عمرہ پہنچے جہاں (ن) لےگ کے سےنےٹر ڈاکٹر آصف کر مانی سمےت دےگر بھی موجود تھے جسکے بعد مےاں نوازشر ےف اور مولانا فضل الر حمن کے درمےان ون وٹوون بھی ملاقات ہوئی جس مےںمتوقع قانون سازی ‘انتخابی اصلاحات کے بل اور پاکستان کی سےاسی اور ملکی صورتحال پر بات چےت کی گئی اس موقعہ پر مےاں نوازشر ےف نے کہا ہے کہ ہم اقتدار اور ذاتی مفادات کی نہےں ملک اور قوم کے حقوق کی بات کرتے ہےں اور ملک مےں پار لےمنٹ جمہورےت اور منتخب عوامی حکومتوںکی مضبوطی کےلئے ووٹ کا تقدس ضروری ہے ورنہ ملک مےں مسائل ختم نہےں ہوں بلکہ ان مےں اضا فہ ہی ہوتا رہےگا ۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لےگ ملک مےں حق اور سچ کےلئے ہر قر بانی دےنے کو تےار ہے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہےں کےا جائےگا ۔

خاندان سمیت جیل جانے کو تیار،لیکن, سابق وزیراعظم نے اہم شرط بھی بتادی

اسلام آباد (صباح نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف نے کہا ہے کہ اداروں کے درمیان تصادم کو روکنے کی ذمہ داری صرف ان کی نہیں ہے۔ اداروں کے مابین ٹکرا وکے حق میں نہیں ہوں، ٹکرا وکی کیفیت پیدا نہیں ہونی چاہیے،یہ تاثردرست نہیں کہ تمام فوجی سربراہان کے ساتھ میری مخالفت رہی برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں سابق وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ عوام کے ووٹ کے تقدس کو مجروح نہیں ہونے دیں گے اور اس کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ایک سوال پر کہ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں عوامی مینڈینٹ کو پامال کیا گیا تو عوام ٹینکوں کے سامنے آئے اور انھوں نے فوج کو پیچھے دھیکیل دیا جس کی حالیہ مثال ترکی کی ہے، کیا پاکستان بھی ایسے ہی ٹکرا وکی جانب بڑھ رہا ہے تو نواز شریف نے کہا کہ وہ اداروں کے مابین ٹکرا وکے حق میں نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ٹکرا وکے خلاف صرف مجھے ہی نہیں ہونا چاہیے۔ سب کو ہونا چاہیے اور ٹکرا وکی کیفیت پیدا نہیں ہونی چاہیے اور اداروں کے مابین تصادم نہیں ہونا چاہیے، یہ صرف میرے اکیلے کی ذمہ داری نہیں، سب کی ذمہ داری ہے۔’نواز شریف نے کہا کہ یہ تاثر ٹھیک نہیں ہے کہ ان کی فوج کے تمام سربراہوں کے ساتھ مخالفت رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘کچھ جرنیلوں کے ساتھ یقینا بنی بھی ہے، اچھی بنی ہے۔ اور میں یہ نے کبھی آئین سے انحراف نہیں کیا، جو قانون کہتا ہے اس کے مطابق چلا ہوں۔’اگر کوئی قانون کی حکمرانی یا آئین پر یقین نہیں کرتا تو میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس ملک کو چلانے والوں نے جو اس ملک کے ساتھ کیا ہے خاص طور پر آمریت نے، وہ پاکستان کی تباہی کا ایک نسخہ تھا۔نواز شریف نے کہا کہ ‘جب پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا تھا، مشرف میرے خلاف تھا، مشرف کے کچھ ساتھی میرے خلاف تھے لیکن باقی فوج میرے خلاف نہیں تھی۔ باقی فوج کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ مارشل لا لگ چکا ہے۔اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب ہم نے اس مرض کی تشخیص کر لی ہے کہ جس کی وجہ سے اس ملک میں تمام مشکلیں اور مصیبتیں جھیلنی پڑی ہیں۔ اس کے لیے ملک کی ایک سمت کا تعین کرنا ضروری ہے اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب ہم ووٹ کے تقدس کا احترام کریں گے۔’ان کا کہنا تھا کہ اب وہ ووٹ کے تقدس کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج نہیں ہے بلکہ ایک مہم ہے، میں یہ اس لیے نہیں کر رہا کہ میں دوبارہ منتخب ہو کر وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھوں، وہ پھولوں کا بستر نہیں کانٹوں کی سیج ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنا بذات خود ایک قربانی ہے۔’پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان صاحب کے بارے میں کیا کہوں، ان کی باتوں کا جواب نہ دینا ہی اچھا ہے۔ آصف علی زرداری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے ان سے کچھ نہیں مانگا اور نہ کوئی مانگنے کا ارادہ ہے۔’اداروں کے مابین گرینڈ ڈائیلاگ کے حوالے سے سینیٹ چیئرمین رضا ربانی کی تجویز پر نواز شریف نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے اپنے کچھ دوستوں سے کہا ہے کہ وہ رضا ربانی کے ساتھ مل کر بیٹھیں اور ان سے پوچھیں کہ ان کہ ذہن میں اس کا کیا خاکہ ہے۔’نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیے تھے اور آج تک اس کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔اس کی ایک خلاف ورزی ہوئی تھی جو ایک این آر او سائن ہوا تھا، مشرف اور کچھ فریقوں کے درمیان وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ نہ ہوتا تو اچھا تھا۔’پاناما مقدمے کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھا کہ چار مہینے تک یہ مقدمہ چلا، پھر جے آئی ٹی بنی، یہ جے آئی ٹی کس طرح بنی اس ساری کہانی آپ کے سامنے ہے۔ انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی میں شامل لوگ ان کٹر اور بدترین مخالفین میں سے تھے۔’ اس جے آئی ٹی کے سامنے ‘ہمارا پورا خاندان پیش ہوا۔’وزیراعظم نواز شریف نے اپنی نااہلی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ‘چار سال ہوگئے ہماری حکومت قائم ہوئے اور واضح مینڈینٹ تھا۔’ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر تھی اور اس نے دھاندلی دھاندلی کی رٹ شروع کر دی جس میں طاہرالقادری بھی شامل ہوگئے۔انھوں نے کہا کہ دھرنوں سے ترقی کا پہیہ تقریبا جام ہوگیا اور دھرنے والے وزیراعظم ہاوس، پالیمان کی گیٹ اور دیگر اداروں کے سامنے پہنچ گئے تھے اور کہتے تھے کہ ‘ہم وزیراعظم کو گلے میں رسہ ڈال کر وزیراعظم ہاس سے باہر نکالیں گے۔ جمہوریت تو کیا آمریت بھی میں ہم نے ایسی چیزوں کو کم ہی دیکھا ہے۔پی ٹی آئی کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہنچا،انھوں نہ کہا کہ ‘یہ دھرنا ختم توا تو پاناما کا معاملہ سامنے آگیا جس میں انھوں نے دوبارہ دھرنا دینے کی کوشش کی۔ ان دنوں سی پیک کا معاملہ بڑی بری طرح متاثر ہوا اس کے باجود ملک نے ترقی کی ہے۔”ان کا مقصد شروع دن سے یہی تھا کہ نواز شریف کو ووٹ کیوں مل گیا ہے، کیوں یہ وزیراعظم بنا ہے اور اس کو وزیراعظم کی سیٹ سے نیچے اتارا جائے۔ جہاں مقصد ہی یہ ہو وہاں باقی چیزوں کی کیا قیمت رہ جاتی ہے۔ سپریم کور کے فیصلے کو عوام نے مسترد کردیا ہے اس لئے ووٹ کے تقدس کیلئے میں آخری حد تک جاﺅں گا۔ اگر مزید تحقیقات کے دوران جرم ثابت ہوجاتا ہے تو میں اور میری فیملی جیل جانے کیلئے تیار ہیں ووٹ کے احترام کو پاﺅں تلے روندنے کی روایت کو توڑنا ہوگا۔ اپوزیشن کے اتحاد کے حوالے سے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ جمہوریت کے فروغ کے لئے اقدامات کئے ہیں جبکہ میرا کوئی بھی اقدام ایسا نہیں ہے جو اس نظرئیے کے خلاف ہو ، میں نے آج تک چارٹرڈ آف ڈیموکریسی کی خلاف ورزی نہیں کی،اس وقت کے صدر زرداری کو ہم نے بہت عزت کے ساتھ رخصت کیا، ہم نے کوئی بھی اپوزیشن کے خلاف ایسے اقدامات نہیں اٹھائیے ہم نے دھرنوں میں بھی صبر اور ضبط سے کام لیا، ہم نے ہمیشہ بردباری کا مظاہرہ کیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ووٹ کے احترام کو یقینی بنائیں یہ میں اکیلا نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لئے تمام سیاسی جماعتو ں کو میرا ساتھ دینا ہوگا۔ سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ میں اداروں کے درمیان تصادم کا حامی نہیں ہوں یہ میری اور ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے کہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی فضاکو یقینی بنائیں۔

”آئین سے 62،63نکالا جاسکتا ہے مگر نواز شریف کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا“ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ امیدوار کا موقع پر موجود ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ کلثوم نواز اگر لندن چلی بھی گئی ہیں تو ان کی پارٹی یہاں موجود ہے۔ خبر پڑھی ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کو الیکشن انچارج بنا دیا گیا ہے اگر یہ غلط ہوئی تو اس کی تردید آ جائے گی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے پر اگر ڈاکٹر یاسمین راشد متفق نہیں تو وہ عدالت میں چیلنج کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والیم ٹین کے مندرجات منظر عام پر نہیں البتہ جو سنا ہے اس کے مطابق اس میں نوازشریف سے ان کے بیرون ممالک بالخصوص بھارت میں کاروبار کے حوالے سے سوال کئے گئے تھے۔ اگر یہ نیب کے پاس چلا گیا ہے تو جلد ہی بہت ساری چیزیں سامنے آ جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آصف زرداری سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں، ان کے پاس ایک ہی ٹاسک ہے کہ پنجاب میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کریں۔ یہاں سے اکثریت حاصل کئے بغیر وہ مرکزی حکومت نہیں بنا سکیں گے۔ امکانات موجود ہیں اگر زرداری لاہور میں محنت کریں تو بہتر رزلٹ حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں چور دروازے چھوڑے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ”ہم شریف خاندان کو نہیں جمہوریت بچانے کو تیار ہیں“ پھر کہا کہ ”سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی“ دھرنوں کے دوران بھی سابق صدر نے یہی کہا تھا کہ نوازشریف کو نہیں پارلیمنٹ بچانے گئے تھے اور اس وقت بھی اتفاق سے نوازشریف کو فائدہ ہو گیا تھا آج بھی زرداری یہی دلیل دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فضل الرحمن کی نوازشریف سے ملاقات ہو گئی اب جلد ہی آصف زرداری سے ہو گی، پھر ماضی میں بہت قربانیاں دینے والے سابق صدر 62,63 کو ختم کرنے کیلئے ایک اور قربانی دیں گے۔ بدقسمتی سے یہاں سیاسی جماعتیں نہیں قبلہ پیری مریدی ہے۔ بھٹو پیر تھے یہ ان کے مرید ہیں، نوازشریف بادشاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آئین کی ان دو دفعات میں حرج کیا ہے کہ حکمران صادق و امین ہوں۔ آصف زرداری، نوازشریف، فضل الرحمن سمیت دیگر سب اندر سے ایک ہیں اور حصول اقتدار کے بھوکے ہیں۔ یہ سب مل کر 62,63 کو آئین میں ترمیم کر کے نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق آرمی چیف راحیل شریف کی وطن واپسی پر افواہیں گرم ہیں کہ ان کی سربراہی میں کوئی ٹیکنوکریٹ حکومت بننے جا رہی ہے۔ غیر تصدیق شدہ خبریں ہیں، میرے خیال میں ایسا کچھ نہیں ہونے جا رہا۔ ملکی حالات بے یقینی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے افواہیں بہت مقبول ہوتی ہیں۔ راحیل شریف نے اپنے دور کے آخری 6 ماہ میں جتنے بھی وعدے کئے ایک بھی پورا نہیں کیا۔ وہ فوج کو بھی مطمئن کرتے رہے کہ ساری صفائی کر کے جاﺅں گا۔ لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں کہ یہ سہولت کاروں کو بھی پکڑ لیں گے لیکن انہوں نے جاتے ہوئے نوازشریف کی منظوری سے 60 کروڑ روپے ماہوار کی نوکری لی اور وزیراعلیٰ شہباز شریف سے کالاخطائی میں اربوں کی زمین لی جو سابق جرنیلوں کو دی جاتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما نوید چودھری نے کہا ہے کہ 62,63 کی شروع سے مخالفت کی۔ ضیا کی برسی پر یہ اور بھی دل کو دکھ پہنچا رہی تھی کیونکہ انہی کے دور میں یہ دفعات آئین میں شامل کی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ جمہوریت کو ریسکیو کیا۔ اب بھی یہ نہیں کہا کہ شریف فیملی سے کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار ہیں۔ اگر نون لیگ 62,63 کو پارلیمنٹ میں لائے گی تو غور کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان دو دفعات کی کوئی ضرورت نہیں، جب مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا، کلمہ پڑھ لیا تو وہ صادق اور امین ہو گیا۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ کلثوم نواز کو الیکشن کمیشن میں پیش ہونا چاہئے تھا، بیرون ملک روانہ ہونے سے ان کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔ قانون میں گنجائش ہے کہ امیدوار کی جگہ کوئی اور اٹارنی پیش ہو سکتا ہے لیکن اگر کلثوم نواز خود پیش ہوتیں تو ان کی عزت میں اضافہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اہلیہ نوازشریف کے کاغذات نامزدگی پر لگنے والے اعتراضات میں وزن تھا، یاسمین راشد ٹھیک طرح سے ہینڈل نہیں کر سکیں۔ اب بھی اعتراضات کرنے والے جے آئی ٹی کی روشنی میں اپنا کیس مضبوط کر کے عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی میں مری کے گھر کا فرنیچر اور لندن کے گھر کا ذکر نہیں۔ حسین نواز انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ لندن میں ان کی والدہ کا گھر ہے۔ ماہر قانون جسٹس (ر) ناصرہ جاوید نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئین میں ترمیم کر کے 62,63 کو نکال سکتی ہیں لیکن اس کا اطلاق ماضی کے فیصلوں پر نہیں ہو گا۔ ان دو دفعات کو آئین سے نکالنے کے بعد بھی نوازشریف نااہل ہی رہیں گے۔

میڈیا کے لوگ یہ کام بند کریں, وزیراعلیٰ کا اہم اعلان

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے)وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک میں 70سال سے رائج اقرباءپروری اور سفارش کلچر کا خاتمہ کر کے زندگی کے تمام شعبوں میں میرٹ کو فروغ دیا ہے۔صوبے میںایک لاکھ 50 ہزار سے زائد اساتذہ میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کئے گئے ہیں۔ محکمہ پولیس میں سپاہی سے لے کرآفسر تک بھرتی سو فےصد مےرٹ کی بنےاد پر کی گئی ہے ۔تمام اداروں مےں مےرٹ پالےسی اپنا ناپنجاب کے عوام کی بڑی خدمت ہے اگر کہیںمےرٹ کی خلاف ورزی کی کوئی مثال سامنے آئی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے ۔ پاکستان کی تارےخ مےں پہلی بار30طلباءو طالبات کا وفد ترک زبان سےکھنے کےلئے ترکی بھجواےاجارہا ہے اورپنجاب بھر سے ان طلباءو طالبات کا انتخاب سو فےصد مےرٹ کی بنےاد پر کےاگےا ہے ۔ترک زبان سےکھنے کےلئے ترکی جانےوالے طلباءو طالبات پاکستان کے سفےر ہےں اورانہےں اپنے طرزعمل سے ملک و قوم کا نام روشن کرنا ہے ۔وزےراعلیٰ محمد شہبازشرےف نے ان خےالات کااظہار آج ماڈل ٹاو¿ن مےں ترکش زبان سکالر شپ پروگرام کے تحت ترکی جانے والے طلبا ءو طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کےا۔وزےراعلیٰ نے طلباءو طالبات سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کے درخشندہ ستارے ہےںاورآپ ترکی کی معروف ےونےورسٹی آف استنبول مےںترک زبان سےکھنے کےلئے جارہے ہےں اوراس ےونےورسٹی نے دنےا کے معروف سکالر زپےدا کےے ہےں ۔آپ نے محنت کرنا ہے کےونکہ محنت،محنت اورصرف محنت ہی کامےابی کازےنہ ہے۔انہوںنے کہا کہ ترکی اورپاکستان کے مابےن گہرے دوستانہ اوربرادرانہ تعلقات قائم ہےںاوردونوں ممالک دکھ سکھ کی گھڑی مےں اےک دوسرے کےساتھ کھڑے رہے ہےں۔دونوں ممالک کے عوام مابےن باہمی احترام اورمحبت کارشتہ موجود ہےںاوران کے دل اےک ساتھ دھڑکتے ہےں۔ہمےں ترکی کی دوستی پر فخر ہے اورترکی نے مشکل حالات مےں پاکستان کا بھر پور ساتھ نبھاےاہے۔پاکستان اورترکی ےکجان دو قالب ہےں اوردونوں ممالک مےں دوستی اور معاشی تعاون بڑھ رہا ہے۔انہوںنے کہا کہ پنجاب مےں ترکی کی متعدد کمپنےوں نے سرماےہ کاری کررکھی ہے اورپنجاب حکومت و ترک کمپنےوں کے مابےن اشتراک کار بڑھ رہا ہے ۔اس لحاظ سے پاکستانی نوجوانوں کےلئے ترکی زبان سےکھنا نہاےت ضروری ہے۔انہوںنے کہاکہ مےںطلباءو طالبات کے سو فےصد مےرٹ پر انتخاب پر صوبائی وزےر تعلےم،چےف سےکرٹری ،اےڈےشنل چےف سےکرٹری ،سےکرٹریز تعلےم ،وائس چانسلر اوران کی پوری ٹےم کو مبارکباد دےتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ پنجاب مےں جنوبی اےشےاءکی بہترےن فرانزک سائنس لےب قائم کی گئی ہے اوراس لےب مےں بھی مےرٹ کی بنےاد پر باصلاحےت افراد شامل کےے گئے ہےں۔ عدالت عالےہ اور عدالت عظمی کے معزز جج صاحبان اس لےب کا دورہ کرچکے ہےں ۔اس لےب مےں نہ صرف پاکستان کے تمام صوبوں سے بلکہ دےگر ممالک سے بھی کےسز ےہاں رےفر ہوتے ہےں۔لےب مےں باصلاحےت لوگ ہےں،شفافےت اورمکمل رازداری کا نظام موجود ہےں۔انہوںنے کہاکہ دنےا کی اس شاندار فرانزک لےب نے پاکستان کے 20کروڑ عوام کا سر فخر سے بلند کردےا ہے ۔اسی طرح سٹےٹ آف دی آرٹ ڈرگ ٹےسٹنگ لےبز بھی بنائی گئی ہےں اور مےں بلاخوف تردےد کہہ سکتا ہوں کہ اس لےب مےں تمام عملہ مےرٹ کی بنےاد پر بھرتی کےا گےاہے ۔سفارش آئی تھی کہ اس لےب مےں پرانا عملہ رکھا جائے تو مےں نے اسے رد کےا اورکہا کہ اگر وہی عملہ آگےا تو لےب تباہ ہوجائے گی اور ان لےب کی وجہ سے جعلی ادوےات کے باعث لوگ مرتے رہےں ےہ کسی صورت برداشت نہےں۔انہوںنے کہا کہ جو لوگ ہمےں ووٹ دےتے ہےں قوم کے ان عظےم لوگوں کےساتھ سچائی شےئر نہ کرنا بڑا ظلم ہے کےونکہ ےہ لوگ پہلے ہی اس نظام سے بےزار ہےں۔پچھلے سال جو ادوےات خرےدی گئیں ان کے نمونوں ان لےب سے ٹےسٹ کےے گئے تو مافےا سے ملی ہوئی ان لےب مےں 99فےصد نمونوں کو درست قرار دےاجبکہ غےر ملکی لےبز نے 33فےصد نمونوں کو مستردکےا اورانہےں غےر معےاری قرار دےا۔انہوںنے کہا کہ جعلی ادوےات کا کاروبار کرنے والے موت کے سوداگر ہےں اورانسانےت کے قاتل ہیں۔ہم نے صوبے سے جعلی غےر معےاری ادوےات کے خاتمے کا تہےہ کےاہوا ہے،اسی لئے ادوےات کے نمونوں کا غار کے زمانے کے لےبز تجزےہ نہےں کراےاگےا کےونکہ ان پر ہمےں اعتبار نہ تھا ۔ےہ قدےم لےبز قتل گاہےں تھیں اور 70سال سے ےہی کاروبار چلا آرہا ہے ۔ مےں گزشتہ 9سالوں سے اس مافےا کے خلاف لڑ رہاہوں۔جہاں سے علم ےا ہنر ملے تو اسے اپنانے مےں کوئی شرم کی بات نہےں۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان مےںوسائل کی غربت نہےں ،غربت ہے تو وہ صرف سوچ کی ہے۔پاکستان مےں وسائل ہےں تو ہم اپنے نوجوانوں کو چےن اورترکی تعلےم کےلئے بھجوارہے ہےںاوران پروگراموں پر کروڑوں روپے خرچ کررہے ہےں۔ انہوںنے کہا کہ نوجوانوں کو زےور تعلےم سے آراستہ کرنے کےلئے اخراجات پاکستان کے روشن مستقبل کےلئے سود مند سرماےہ کاری ہے ۔ انہوںنے کہا کہ رواں سال ادوےات کی خرےداری کےلئے ادوےات کے نمونے برطانےہ،جنوبی افرےقہ ،سنگاپور اورترکی مےں بھجوائے گئے ہےں ۔ترکی پاکستان کا دوست ملک ہے اس لئے وہ ان ادوےات کے نمونوں کا تجزےہ مفت کررہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ معےاری ادوےات پر امےروں کا نہےں غرےبوں کابھی پورا حق ہے ۔انہوںنے کہا کہ صدر ،وزےراعظم،چےف آف دی آرمی سٹاف،ججز،جرنلز،بےورکرےٹس جو ادوےات استعمال کرتے ہےں وہی دوائی غرےب کو بھی ملنی چاہےے اور ہم اسے ےقےنی بنا رہے ہےں۔انہوںنے کہا کہ 70سال گزرنے کے باوجودامےروں کو تو تمام سہولتےں مےسر ہوں لےکن غرےب بنےادی سہولتوں سے بھی محروم رہےں ےہ قائدؒاوراقبالؒ کا پاکستان نہےں۔ہم نے کچھ روز قبل ےوم آزادی مناےا اوراس کا ابدی پےغام ےہی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کو آگے بڑھنے کے مساوی اورےکساں مواقع ملےں۔انہوںنے کہا کہ ہم نےوکلےر طاقت ہونے کے باوجود معاشی اورسےاسی طورپر محکوم ہےں،ےہ ہماری قسمت نہےں اوراس لئے پاکستان نہےں بناےاگےا تھا۔ہم نے خود خرابےاں پےدا کی ہےں اورہمےںخود ہی اسے ٹھےک کرنا ہے ۔اللہ تعالیٰ سب کچھ کرسکتا ہے لےکن محنت،اےثار،قربانی وہ اصول ہےں جنہےں ہم اپنا کر ملک اورقوم کی تقدےر بدل سکتے ہےں ۔انہوںنے کہاکہ ترکی کے عوام اپنے پاکستانی بھائےوں سے بے پناہ محبت کرتے ہےں مےںطلباءکےلئے ترکی زبان سےکھنے کے پروگرام مےں تعاون پر اپنے بھائی ترک قونصل جنرل کا بھی بے حد شکرگزار ہوں۔مےڈےا کے نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے اےک سوال کے جواب مےں وزےراعلیٰ نے کہا کہ سےاستدانوںکو بھی شارٹ کورسز کرائے جاتے ہےں اورمےں نے اکےڈمی مےں ان کی تربےت بھی کروائی تھی،جس طرح ہم دےگر اداروں کی استعداد کار بڑھانے کےلئے کام کررہے ہےںاورتربےت کا انتظام کےاگےا ہے اس طرح سےاستدانوں کو بھی اپنی صلاحےتوں مےں نکھار لانے کےلئے شارٹ کورسز کرنے چاہےے۔اےک نجی ٹی وی چےنل کی جانب سے لگائے گئے بے بنےاد الزام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب مےں وزےراعلیٰ نے کہا کہ مےڈےا کے ان ساتھےوں نے بے پناہ دروغ گوئی کی ہے اورجھوٹ بولا ہے اورسےاستدانوں کو بدنام کےا ہے۔جھوٹ بولنا اوردروغ گوئی کرنے سے بڑی زےادتی کوئی نہےں ۔مےں تو کہتا ہوں کہ سب کو کٹہرے مےں کھڑا ہونا چاہےے لےکن اس طرح کے بے بنےاد جھوٹ بول کرآپ بڑی زےادتی کرتے ہےں ۔انہوںنے کہا کہ سےاسی خبر کےلئے مےں جلد سےاسی سےشن کروں گااور آپ سے بات ہوگی۔وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے ترک زبان سےکھنے کےلئے ترکی جانے والے طلبا ءو طالبات کو لےب ٹاپ بھی تقسےم کےے۔ترک زبان سےکھنے کےلئے ترکی جانے والے طلبا و طالبات کے وفد مےں پانچ افسران بھی شامل ہےں ۔صوبائی وزےر تعلےم رانا مشہود احمد خان،ترک قونصل جنرل سردار ڈےنز(Mr.Serdar Deniz)،معاون خصوصی ملک محمد احمد خان، پارلےمانی سےکرٹری سکولز اےجوکےشن،وائس چانسلرز،اےڈےشنل چےف سےکرٹری،سےکرٹریز تعلےم،ماہرےن تعلےم اورمتعلقہ حکام نے اس موقع پر موجود تھے ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے رکن قومی اسمبلی اویس لغاری نے ملاقات کی جس میں جنوبی پنجاب کے عوام کی فلاح و بہبود کےلئے جاری ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کی ترقی اور وہاں کے عوام کی خوشحالی مےرامشن ہے۔جنوبی پنجاب مےں اربوں روپے کے مےگاپراجےکٹس نہاےت تےزرفتاری سے مکمل کےے گئے ہےں اور متعدد فلاحی منصوبوں اورپروگراموں پر کام کےا جارہاہے اور میں ذاتی طور پر جنوبی پنجاب میں جاری فلاح عامہ کے منصوبوں پر پیش رفت کی نگرانی کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ملتان میں میٹرو بس پراجیکٹ کے منصوبے نے شہر کو نئی شناخت دی ہے اور یہ منصوبہ مکمل ہونے سے شہریوں کو بین الاقوامی معیار کی جدید اور تیز رفتار سفری سہولتیں میسر آئی ہےں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کی خوشحالی کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں آبادی کے تناسب سے زیادہ وسائل مختص کئے گئے ہیں۔ اویس لغاری نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے جنوبی پنجاب کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بے مثال اقدامات کئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے ےہاں کے عوام کےلئے حکومت پنجاب کے شاندارتحفے ہےں اور جنوبی پنجاب مےں آبادی کے تناسب سے زےادہ وسائل کی فراہمی وزےراعلیٰ کی یہاں کے عوام سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور گورنر پنجاب محمد رفیق رجوانہ کے درمیان آج یہاں ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور صوبہ پنجاب کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے جاری پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر محمد رفیق رجوانہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے شاندار انداز میں اقدامات کئے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے شہبازشریف نے اپنا دن رات ایک کیا ہوا ہے اور ان کی شبانہ روز کاوشوں کی بدولت پنجاب کی بے مثال ترقی دیگر کیلئے رول ماڈل بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی تیز رفتار ترقی کی کا کریڈٹ وزیراعلیٰ شہبازشریف اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی خدمت اور انہیں ریلیف فراہم کرنا ہماری حکومت کی پہلی ترجیح ہے اور پنجاب کی تاریخ کے سب سے بڑے سالانہ ترقیاتی پروگرام پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا مفاد سب سے زیادہ عزیز ہے۔ سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے۔ خالی نعروں سے تبدیلی نہیں آتی، اس کیلئے محنت کرنا پڑتی ہے۔ عوام کی خدمت اور خوشحالی کے سفر کو پہلے سے بڑھ کر جاری رکھیں گے۔