سابق وزیراعظم کی ریلی, جگہ جگہ شاندار استقبال

اسلام آباد، راولپنڈی (رپورٹنگ ٹیم) کیا فیصلہ آپ کے ووٹوں کی توہین ہے یا نہیں؟ نواز شریف کا عوام سے سوال، کہتے ہیں پورے پاکستان میں ایسی محبت کبھی نہیں دیکھی، یہ انقلاب کا پیش خیمہ ہے، راولپنڈی میرا شہر ہے، نواز شریف کے خلاف فیصلے کو عوام نے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی عدالت فیصلہ دے رہی ہے، نواز شریف کو کس بات کی سزا دی گئی؟ عوام کے مینڈیٹ کو ایک منٹ میں ختم کر دیا گیا، یہ عوام کے ووٹوں کی توہین ہے یا نہیں؟ تنخواہ نہ لینے پر مجھے نااہل کیا گیا، کیا کوئی کک بیک یا کمیشن لیا؟ نواز شریف کا کہنا تھا کہ راولپنڈی کا فیصلہ پورے ملک کا فیصلہ ہوتا ہے، کسی وزیر اعظم نے مدت پوری نہیں کی، اوسطاً ڈیڑھ سال ایک وزیر اعظم کو اقتدار ملا، یہ مذاق پاکستان کے ساتھ 70 سال سے ہو رہا ہے، ہم نے اتنی محنت کر کے پاکستان کو آگے بڑھایا لیکن اب پاکستان پھر پستی کی طرف جا رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ وہ کہتے ہیں تنخواہ نواز شریف نے کیوں نہیں لی؟ میں کہتا ہوں جب تنخواہ لی ہی نہیں تو ظاہر کیوں کروں؟ آپ کے ووٹ کی توہین مجھے اور آپ کو قبول نہیں، آپ نے میرا ساتھ دینا ہے، ہمارے آنے سے پہلے ملک میں اندھیرے تھے، آج لوڈ شیڈنگ عملاً ختم ہو رہی ہے۔نواز شریف نے کہا کہ اگلے سال کے شروع میں ملک میں لوڈ شیڈنگ کا نام و نشان نہیں رہے گا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر خوشحال ہو رہے ہیں، 2014ءمیں دھرنا آ گیا، وہ مولوی صاحب آج پھر پاکستان پہنچ گئے ہیں، یہ کینیڈا میں عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں اور پاکستان میں تباہی کا نسخہ لے کر آ جاتے ہیں، دھرنے والوں اور مولوی نے ملک کو نقصان پہنچایا، پاکستان سے غربت اور جہالت کو ختم ہونا چاہئے۔ نواز شریف نے کہا کہ میرے زمانے میں پشاور سے اسلام آباد اور پھر لاہور موٹروے بنی، جب میری حکومت ختم کی گئی تو لاہور سے آگے موٹروے نہیں بڑھی، میری دوبارہ حکومت آئی تو موٹروے کراچی جا رہی ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ موٹروے کا بیشتر حصہ 2018ءاور 19ءمیں مکمل ہو جائے گا، بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھایا ہے، منصوبہ بندی سے دہشتگردی کو ختم کیا، آج ایک میجر اور 3 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، فوجی جوانوں کی شہادت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم پاکستان کے بہترین مفاد میں کام کر رہے ہیں، پاکستان کو بدلنا ہو گا، مینڈیٹ کا احترام نہیں ہو گا ترقی نہیں ہو گی، میرے بھائیوں وعدہ کرو اپنے مینڈیٹ کا احترام کرواو¿ گے، کسی کو اس مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دو گے اور اپنے ووٹ کے تقدس کا خیال رکھو گے، وعدہ کرو کہ اپنے وزیر اعظم کی تذلیل اور بے عزتی نہیں ہونے دو گے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل سے میرے ہاتھ صاف ہیں، ان ججوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف کرپشن کا کوئی کیس نہیں، کیس تو دور کی بات، کوئی داغ اور الزام بھی نہیں، اس فیصلے کا فیصلہ آپ پر اور تاریخ پر چھوڑتا ہوں، اس ملک کے اندر قانون کی حکمرانی کے بغیر عزت کی زندگی نہیں مل سکتی، اس ملک کو ان تمام مسائل سے نجات دلانے کے لئے ایک نقشہ پیش کرونگا، میں ہر گز آپ سے یہ توقع نہیں کرتا کہ آپ مجھے بحال کرائیں، اس ملک کی ترقی اور بہتر مستقبل کے لئے نواز شریف کا ساتھ دیں، کیا آپ ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے نواز شریف کا ساتھ دینگے؟ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اقتدار کی لالچ کے بغیر غریبوں کی قسمت بدلیں گے۔ انہوں نے صحافیوں پر حملوں کی مذمت بھی کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام نے اور دنیا بھر نے پانامہ فیصلہ کو قبول نہیں کیا۔ آج پنڈی والوں کا ریفرنڈم تھا جنہوں نے میرے حق میں فیصلہ دیا۔ ایک فیصلہ اس عدالت نے دیا اورایک فیصلہ عوام کی عدالت نے دینا ہے کہ نواز شریف کوکس بات کی سزا دی گئی، کرپشن ثابت نہ ہوئی تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کا کہہ کر نکال دیا۔ راولپنڈی پنجاب ہاﺅس میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ چند لوگ کروڑوں عوام کے مینڈیٹ کو ایک منٹ میں ختم کر دیتے ہیں میرے ساتھ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پنڈی ان کا ہے میں کہتا ہوں کہ پنڈی کے عوام بدل چکے ہی۔ پنڈی ن لیگ کا شہر ہے۔ پاکستان میں وزیراعظم کےخلاف سازشیں ہوتی رہی ہیں 70سال سے یہ مذاق جاری ہے لیکن کسی وزیراعظم کو پھانسی دیدی، کسی کو ہتھکڑیاں لگا کر جیل بھیج دیا، کسی کو ملک بدر کیا گیا۔ کیا یہ سب عوامی نمائندے نہیں تھے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے حکومت کا کوئی لالچ نہیں ہے پاکستان ترقی کی جانب جا رہا تھا لیکن اب پھر پیچھے کی جانب جا رہا ہے جب سے پانامہ مقدمہ چلا ہے سٹاک مارکیٹ تیزی سے نیچے گری ہے۔ ملک پستی کی جانب جارہا ہے۔ ریلی کو مخاطب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کیا عوام کے ووٹ کی توہین یونہی جاری رہے گی کیا کسی کو اجازت ہونی چاہیے کہ ایک سیکنڈ میں وزیر اعظم کو گھر بھجوا دے ہم نے عوامی مینڈیٹ کی عزت کرانی ہے۔ ووٹ کی توہین نہیں ہونے دینی، مجھے یہ منظور نہیں ہے قوم کو بھی منظور نہیں ہے۔ آپ لوگوں نے میرا ساتھ دینا ہے، مجھے وزیراعظم بنانے، دوبارہ بحال کرانے کےلئے نہیں بلکہ ملک کو بدلنے کےلئے ساتھ دینا ہے۔ دھرنے دینے والوں نے ہمارے خلاف کیا کیا سازش نہ کی۔ مولانا صاحب بھی پھر واپس آ گئے ہیں یہ حضرت کینیڈا میں عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں اور یہاں تباہی کا نسخہ لیکر آ جاتے ہیں۔ ا ن دونوں نے ملک کو تباہ کیا ہے۔ میرے دور میں موٹر ویز بنیں، بجلی کے کارخانے لگے، لوڈشیڈنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے، بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھایا امن بحال کیا۔ ملک سے دہشتگردی کو ختم کیا۔ آج بھی ایک میجر اور 3جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ان کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ سی پیک میں تاریخ کی بھاری سرمایہ کاری ہو رہی ہے جتنے کام کئے ملک کے مفاد میں کئے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ وعدہ کرو اپنے مینڈیٹ کا ا حترام کرواﺅ گے۔ کسی کو اپنے مینڈیٹ پر شب خون نہیں مارنے دو گے۔ ووٹ کے تقدس کی حفاظت کرو گے۔ اپنے وزیراعظم کو رسوا، اس کی تذلیل نہیں ہونے دو گے۔ میرے ہاتھ صاف ہیں ججز نے فیصلہ میں کہا کہ نواز شریف کےخلاف کرپشن کا کوئی کیس نہیں ہے کرپشن کا الزام تک نہیں ہے پھر مجھے کیوں نکالا گیا۔ جب کرپشن کا کیس نہ ملا تو کہا کہ نواز نے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اور نکال دیا۔ میں فیصلہ عوام اور تاریخ پر چھوڑتا ہوں۔ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے بغیر عزت کی زندگی نہیں گزار سکتے۔ میں ایک محب وطن باوفا پاکستانی ہوں جو وطن سے پیار کرتا ہے، وعدہ کرتا ہوں کہ اقتدار کے لالچ کے بغیر کام کروں گا ۔ ملک کو مسائل سے نکالنے کےلئے ایک نقشہ پیش کروں گا۔ ہمیں انقلاب لانا ہوگا غریبوں کی قسمت بدل جائے گی۔ میڈیا والوں کے ساتھ غیرمناسب رویہ اختیار کیا گیا۔ جو ہمارا نہیں بلکہ ہمارے مخالفین کا شیوہ ہے۔ صبح 11بجے کچہری چوک سے سفر دوبارہ شروع کرینگے۔اسلام آباد روانگی سے قبل سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھے گھر بھےجا گےا ہے اور اب مےں گھر جارہا ہوںکوئی پاور شو نہےں کررہا، جی ٹی روڈ کا انتخاب اس لئے کےا ہے تاکہ ان لوگوں کا شکریہ ادا کرسکوں جنہوں نے مجھے منتخب کےا ہے۔ شاہد خاقان عباسی ہمارے شروع کردہ منصوبوں کی تکمیل اور حکومت کی مدت پوری ہونے تک وزیر اعظم ہی رہیں گے۔ پنجاب ہاﺅس میں لاہور روانگی سے قبل وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور لیگی رہنماﺅں سے ملاقات کے دوران میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی حکومت کی آئندہ مدت تک وزیراعظم رہیں گے اور شہباز شریف بدستور وزیر اعلی پنجاب رہیں گے کیونکہ شہباز شریف پنجاب کی جان اور پاکستان کی شان ہیں شہباز شریف نے پنجاب کو رول ماڈل بنایا اور مزید بہت کچھ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی دیرینہ ساتھی اور دوست ہیں لیگی وزراءاور رہنما ان سے مکمل تعاون کریں۔ اللہ ہمیں پاکستان کی ترقی اور عوام کی خدمت کی توفیق دے اور آپ سب رہنماﺅں اور عوام کے لئے نیک خواہشات ہیں۔ نواز شریف نے مزید کہا ہے کہ عوام نے مجھے منتخب کیا ہے اس لئے عوام کا شکریہ ادا کرنے کے لئے جا رہا ہوں کوئی پاور شو نہیں کر رہا۔ ایک نیک مقصد کے لئے جا رہا ہوں سفر طویل ہے مگر خوشی ہے کہ اپنے گھر جا رہا ہوں انہوں نے کہا کہ بہت سے سوالات کا جواب ڈھونڈ رہا ہوں۔ مگر ابھی کہیں نہیں جا رہا، سیاست میں ہی رہوں گا کیونکہ ہٹرک مکمل کرنی ہے اگر سیاست سے پیچھے ہٹ گیا تو لوگ سمجھیں گے میرے دل میں چور ہے ۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ شہبازشریف نے پنجاب کو رول ماڈل بنایا ہے، شہبازشریف نے ابھی مزید بہت کچھ کرنا ہے۔نواز شریف کا لاہور روانگی سے قبل کہنا تھا کہ اپنے گھر جا رہا ہوں اس کے پیچھے کوئی مقاصد نہیں، ایک مشن لے کر جارہا ہوں، جس عوام نے مجھے منتخب کیا ان کا شکریہ ادا کرنے جارہا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ سب کے لیے نیک خواہشات ہیں، اللہ ہمیں پاکستان کی ترقی اور عوام کی خدمت کی توفیق دے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مشکلات کے باوجود حوصلہ بلند ہے‘ میرے دور حکومت میں ملک ترقی کررہا تھا۔ بدھ کو پنجاب ہاﺅس میں لاہور روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشکلات کے باوجود حوصلہ بلند ہے ملکی پیداوار میں 5.3 فیصد ترقی ہوئی ملک میرے دور میں ترقی کررہا تھا۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ چار سال سے ملک ہر شعبے میں آگے بڑھ رہا تھا، پچھلے سال ترقی کی شرح5 اعشاریہ 3فیصد حاصل کی ۔ بدھ کو لاہور روانگی سے پہلے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ اس سال ترقی کی شرح 7فیصد تک ہونے کی توقع ہے ¾بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے ترقی کی شرح بڑھنے کی صلاحیت ہے۔انہوں نے کہا کہ معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی ¾سی پیک منصوبہ تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے، 2013ءمیں ہمیں تین بڑے چیلنجز ورثے میں ملے ،2013ءمیں بجلی بحران عروج پر تھا۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ سال کے اوائل تک بجلی بحران مکمل حل کرلیا جائےگا۔ دریں اثناءنواز شریف راولپنڈی میں خطاب کے بعد پنجاب ہاﺅس راولپنڈی چلے گئے۔ جہاں آج رات قیام کے بعد وہ دوبارہ کمیٹی چوک سے اپنے لاہور کے سفر کا آغاز کریں گے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد پنجاب ہاﺅس سے کمیٹی چوک تک کا سفر سابق وزیراعظم نے 12 گھنٹے میں طے کیا۔

خاص خبریں


imran khan toda.jpg
asif ali zardari
panama
ch nisar ali khan

سائنس اور ٹیکنالوجی


chakotra.jpg

تازہ ترین ویڈیوز


تصاویر

HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five © 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE | All rights of the publication are reserved by channel-5.tv