فوج مداخلت کریگی یا نہیں, دیکھئے اہم ترین خبر

راولپنڈی (بیورورپورٹ‘مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل و روایتی میڈیا پر سیاستدانوں کی طرف سے پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے اراکین پر انگلیاں اٹھائے جانے اور مبینہ سازش کے بیانات کے بعد پاک فوج کا موقف بھی آگیا ہے اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ جے آئی ٹی کا براہ راست پاکستان کی مسلح افواج سے کوئی تعلق نہیں ، آئین و قانون کی پاسداری ہر شہری کا فرض ہے ، وہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ پریس کانفرنس کے دوران پاک فوج کے حکومت مخالف کسی سازش کا حصہ ہونے سے متعلق سوال کے جواب میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ جے آئی ٹی کا پاک فوج سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ، جے آئی ٹی اراکین نے ایمانداری سے کام کیا ، سیاسی باتیں سیاسی دائرہ اختیار میں ہوتی ہیں، ملک کے موجودہ حالات میں یہ سوال بنتا نہیں ، مسلح افواج ملک میں امن و استحکام کیلئے کام کررہی ہیں۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش سے متعلق سوال کا جواب ہی نہیں بنتا ،سیاسی بات چیت سیاسی دائرہ کار میں ہوتی ہے پاکستان آرمی صرف ملک میں امن اور استحکام کو دیکھ رہی ہے،جے آئی ٹی کے ساتھ پاک فوج کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ، جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی اس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دو ممبر تھے جنھوں نے سپریم کورٹ کے ماتحت رہ کر محنت اور ایمانداری سے کام کیا، کیس سپریم کورٹ کے پاس جائے گا اور وہی فیصلہ کرے گی،ہر پاکستانی پر فرض ہے کہ وہ آئین و قانون کی پاسداری کو یقینی بنائے اور اس کا احترام کرے۔ ، آپریشن ردالفساد کے تحت خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں زمینی آپریشن ” خیبر فور“ شروع کردیا ہے ، دہشت گردوں کی کمین گاہوں کوختم کیا جائے گا، امید ہے کہ اس آپریشن کے بعد ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا ،کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کی ہے کلبھوشن کی اپیل پر فیصلہ میرٹ پر کیا جائے گا، پاکستان میں داعش کامنظم انفراسٹرکچر موجود نہیں، سی پیک پر پوری قوم اور ادارے ایک ہیں اس کو مکمل سکیورٹی دیں گے اوراسے ناکام نہیں ہونے دیں گے۔ اتوار کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ آپریشن ردالفساد کے تحت خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں زمینی آپریشن شروع کردیا ہے آپریشن خیبر فور شروع کیا گیا ہے۔ 2014 میں ضرب عضب شروع کیا اور پھر ختم کیا ہم نے اپنا علاقہ کلیئر کرالیا۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کی ہے کلبھوشن کی اپیل پر فیصلہ میرٹ پر کیا جائے گا۔ کشمیر میں جدوجہد کی وجہ سے بھارت کی جانب سے ایل او سی پر جارحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ امریی کانگریس نے کل ایک بل پیش کیا جن دو افراد نے بل پیش کیا وہ بھارت کے زیر اثر ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس سفارتی استثنیٰ کے تحت واپس گیا۔ کتاب کنٹریکٹر کی حیثیت سے لکھی ،اس طرح کی کتابوں کے مقاصد اور ایجنڈے اور ہوتے ہیں وقت کے ساتھ سب واضح ہوجائے گا۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں صرف آئی ایس آئی نہیں تھی کیس میں حکومت کے اور بھی ادارے تھے۔ ۔داعش کا منظم انفراسٹرکچر پاکستان میں نہیں۔ سی پیک پر پوری قوم اور ادارے ایک ہیں اس کو مکمل سکیورٹی دیں گے اور اس کو فیل نہیں ہونے دیں گے۔ جے آئی ٹی کے پیچھے ہونے اور حکومت کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ یہ کہنا کہ پاک فوج کسی سازش کا حصہ ہے اس سوال کا تو جواب دینا بھی نہیں بنتا۔پاکستان آرمی وہ کام کررہی ہے جو ملک کے دفاع اور سلامتی کے لئے ضروری ہے۔ سیاسی بات چیت سیاسی دائرہ کار میں ہوتی ہے پاکستان آرمی صرف امن اور استحکام کو دیکھ رہی ہے۔ پاکستان فوج پاکستان کا حصہ ہے ہر پاکستانی پر فرض ہے کہ وہ آئین و قانون کی پاسداری کو یقینی بنائے اور اس کا احترام کرے۔ جے آئی ٹی کے ساتھ پاک فوج کا براہ راست تعلق نہیں ۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی اس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دو ممبر تھے۔ سپریم کورٹ کے ماتحت رہ کر محنت اور ایمانداری سے کام کیا ہے۔ کیس سپریم کورٹ کے پاس جائے گا اور وہ فیصلہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے افغانستان کے ساتھ بارڈر کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ اس راستے سے دہشتگردوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ روکا جا سکے ۔آصف غفور نے کہا کہ 2007 میں جب آپریشن کا آغاز کیا گیا اس وقت روزانہ درجنوں کی تعداد میں بے گناہ شہری موت کے منہ میں جا رہے تھے مگر جب سے آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے اس وقت سے ان علاقوں میں رہنے والوں کی شرح اموات میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی کے پہاڑی علاقے راجگال میں دہشتگرد گروپوں کے خلاف بڑا آپریشن کر دیا ہے ¾ہماری تجویز ہے دوسری طرف افغانستان بھی آپریشن شروع کرے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کےساتھ آپریشن سے متعلق رابطے میں رہیں ¾پار چنار واقعہ میں گرفتار افراد داعش میں رابطے میں تھے ¾ مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائینگے ¾ امریکی کانگریس میں بل کے ذریعے امداد پر تین سخت شرائط لگائی ہیں ¾پاکستان کو اپنے مفادات عزیز ہیں وہ کسی سے اپنے اقدامات کےلئے سرٹیفکیٹ نہیں لے گا ¾حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشتگر گروپوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ¾افغانستان میں داعش مضبوط ہوتی جارہی ہے ¾ پاکستان میں داعش کا کوئی منظم وجود یا نظام نہیں ¾ بھارت سیریز فائر کی خلاف ورزی کرتا ہے تو موثر جواب دیا جاتا ہے ¾ کلبھوشن کی رحم کی اپیل پر فیصلہ میرٹ پر کیا جائیگا ¾ ہم نے پاکستان کے مفاد کو دیکھنا ہے ¾جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی ¾ فیصلہ بھی اسی نے کرناہے،جے آئی ٹی وہ ایشو ہے جس کا فوج سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ¾ملکی قانون کے تحت احسان اللہ احسان کے خلاف کارروائی کی جائیگی ¾سی پیک پر پوری قوم اور تمام فریقین ایک ہیں ¾اس پراجیکٹ کو مکمل سکیورٹی دینگے ¾ کسی صورت فیل نہیں ہونے دینگے ¾ قانون اور آئین کا احترام کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے ¾ سیاسی معاملات سیاسی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل آصف غفور نے کہاکہ خیبر ایجنسی کے پہاڑی علاقے راجگال میں دہشتگرد گروپوں کے خلاف بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے اور اس آپریشن میں فوج اور دیگر ادارے زمینی آپریشن کرینگے اور انہیں پاکستان ائیر فورس کی ہوائی مدد حاصل کررہے گی انہوںنے کہاکہ 2014میں ضرب عضب شروع کیا اور اس میں سارا علاقہ کلیئر کرالیا انہوں نے بتایا کہ راجگال کا علاقہ افغانستان کے قریب ہے اور آپریشن اس لئے شروع کیا گیا ہے کہ افغانستان میں داعش کی بڑھتے ہوئے خطرات نے ہمارے علاقوں میں بھی مسائل پیدا کر نے کے خدشات پیدا کئے تھے انہوںنے کہاکہ شمالی وزیرستان کے پہاڑی علاقے شوال میں بھی آپریشن کا ارادہ ہے تاکہ وہ علاقہ بھی مسلح گروپوں سے پاک کیا جائے ۔ترجمان نے کہاکہ خیبر فور نامی آپریشن کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی اور یہ آپریشن رد الفسا د کا حصہ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بھارتی ایجنٹ کلبھوشن نے رحم کی اپیل کی ہے اور آرمی چیف کلبھوشن کیس کا جائزہ لے رہے ہیں ¾کلھبوشن کی اپیل پر فیصلہ میرٹ پر کیا جائیگا انہوںنے کہاکہ ہمیں سب سے پہلے پاکستان کے مفاد کو دیکھنا ہے ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ ہم وہ کام کرہے ہیں جو ملک کے دفاع کےلئے ضروری ہے سیاسی معاملات سیاسی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ¾ پاکستان فوج پاکستان کا حصہ ہے ¾ہر پاکستانی پر فرض ہے کہ وہ قانون اور آئین کا احترام کرے اور پاک فوج آئین کی عملداری چاہتی ہے ۔ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ سی پیک پاکستان کی ترقی کےلئے بہت ضروری ہے ¾ سی پیک پر پوری قوم اور تمام فریقین ایک ہیں ¾ہم اس پراجیکٹ کو مکمل سکیورٹی دینگے اور کسی صورت فیل نہیں ہونے دینگے ۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ یہ کہنا کہ فوج سازش کا حصہ ہے اس سوال کا جواب دینا بھی نہیں بنتا ۔سوشل میڈیا کے حوالے سے سوال پر پاک فوج کے ترجمان نے بتایاکہ جہاں تک سوشل میڈیا کا تعلق ہے تو ہر شخص کو آزادی اظہار کا حق حاصل ہے ۔ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں کئی اداروں نے کر دارادا کیا ہے اور ریمنڈ ڈیوس سفارتی استثنیٰ کے تحت واپس گیا ۔ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی جے آئی ٹی وہ ایشو ہے جس کا فوج سے براہ راست کوئی تعلق نہیں انہوںنے کہاکہ یہ کیس سپریم کورٹ میں ہے اور اسی نے فیصلہ کرنا ہے انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی کے کام میں فوج کی براہ راست مداخلت نہیں ہے ۔ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ ملکی قانون کے تحت احسان اللہ احسان کے خلاف کارروائی کی جائیگی تاہم احسان اللہ احسان کے خلاف مقدمے کی ابھی کارروائی شروع نہیں ہوئی ۔

خاص خبریں


ayaz sadiq
ShahidKhaqanAbbasi
Hamza_Shahbaz
asif ali zardari

سائنس اور ٹیکنالوجی


chakotra.jpg

تازہ ترین ویڈیوز


تصاویر

HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five © 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE | All rights of the publication are reserved by channel-5.tv